جوڈیشل کمشن چیلنج کئے جانے پر حکومت، تحریک انصاف کے ماہرین مشترکہ پیروی کرینگے

لاہور (ایف ایچ شہزاد سے) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف نے 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمشن کی تشکیل کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کئے جانے کی صورت میں مشترکہ قانونی پیروی پر اتفاق کیا ہے۔ اعلیٰ قانونی ذرائع کے مطابق فریقین کی لیگل ٹیموں نے جوڈیشل کمشن کی تشکیل کے خلاف ممکنہ رٹ درخواستوں کے تمام قانونی پہلوئوں کا جائزہ لے کر اپنی اپنی قیادت کو بتایا ہے صدارتی آرڈیننس کے تحت جوڈیشل کمشن کی تشکیل دستور پاکستان کے آرٹیکل 225 سے متصادم ہے اور نہ ہی آرٹیکل 225 جوڈیشل کمشن کی تشکیل میں رکاوٹ ہے۔ آرٹیکل 225 کہتا ہے انتخابات سے متعلق تمام امور الیکشن ٹربیونلز میں نمٹائے جائیں گے اور اس بارے میں کوئی عدالتی فیصلہ نہیں آ سکتا۔ جب تک الیکشن پٹیشن کے ذریعے متعلقہ ٹربیونل سے حکم حاصل نہ کیا جائے اس وقت تک رکن اسمبلی کو اس کے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ حکومت اور تحریک انصاف کے قانونی ماہرین کے مطابق جوڈیشل کمشن کے ذریعے تحقیقات کے بعد فاضل کمشن کی رپورٹ کی روشنی میں کسی رکن اسمبلی کی رکنیت ختم نہیں کی جا سکے گی اور کمشن کی رپورٹ کا کسی رکن اسمبلی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لہٰذا جوڈیشل کمشن کی تشکیل کسی بھی طرح آرٹیکل 225 سے متصادم نہیں۔ تحریک انصاف کے ذرائع اس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں جوڈیشل کمشن نے اپنی رپورٹ میں 2013ء کے عام انتخابات میں وسیع اور منظم دھاندلی کی تصدیق کر دی تو معاہدے کے مطابق وزیراعظم ازخود اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔