جنوبی پنجاب میں ترقیاتی منصوبے کئی سال گزرنے پر بھی مکمل نہیں ہوپاتے: ارکان پنجاب اسمبلی

جنوبی پنجاب میں ترقیاتی منصوبے کئی سال گزرنے پر بھی مکمل نہیں ہوپاتے: ارکان پنجاب اسمبلی

لاہور(سپورٹس رپورٹر + کلچرل رپورٹر) صوبائی وزیر مواصلات تنویر اسلم نے کہا ہے کہ 100 ارب روپے لاگت کے ’’خادم اعلیٰ رورل روڈ پروگرام ‘‘کا منصوبہ اسی ہفتے شروع کر دیا جائے گا جسے 2018ء تک مکمل کیا جائے گا۔ ارکان اسمبلی نے منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور اور اپر پنجاب کے منصوبے دو سے تین ماہ میں مکمل کر لئے جاتے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کے ترقیاتی منصوبے کئی کئی سال گزرنے کے باوجود پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتے اور مکمل نہیں ہوپاتے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی اپنے مقررہ وقت دس بجے کی بجائے ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی تاخیر سے قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گو رچانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم اعوان نے محکمہ مواصلات و تعمیرات سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے۔ حکومتی رکن شیخ علائو الدین نے ضمنی سوال کے دوران کہا کہ نیاز بیگ فلائی اوور لاہور کا منصوبہ ناقص منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 2006ء میں یہ منصوبہ سوا دو ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا جو انوائرمنٹ سرٹیفکیٹ کے بغیر شروع کیا گیا۔ حالانکہ احسان اللہ جوہر نے جو منصوبہ پیش کیا تھا اس کے تحت اس منصوبے کی لاگت صرف پچاس کروڑ روپے بنتی تھی اور اسکے لئے ایک انچ اراضی ایکوائر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مولانا شوکت علی روڈ کو ملتان روڈ سے ملانے کے لئے جو منصوبہ بندی کی گئی وہ ناقص تھی، اس روڈ پر خوش قسمتی سے ہی کوئی بچ سکتا ہے۔ اس منصوبے میں جن لوگوں سے زمینیں لی گئیں انہیں تین لاکھ روپے مرحلہ کے حساب سے ادائیگی کی گئی حالانکہ ان کا مارکیٹ ویلیو کے حساب سے کلیم 25 سے 30 لاکھ روپے مرلہ بنتا ہے اور اب تک کئی کلیم پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس وقت کہہ دیا تھاکہ اس سے رائیونڈ سے یتیم خانہ جانے والی ٹریفک کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بتایا جائے گلبرگ کا منصوبہ کیوں روکا گیا؟ قائم مقام سپیکر نے کہا کہ اب یہ منصوبہ بن گیا ہے آپ اسکی اصلاح کے لئے کوئی تحریک لے آئیں یا کوئی تجویز دیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ شیخ علائو الدین کو سراہتا ہوں کہ وہ ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کی بات کرتے ہیں۔ اس منصوبے کے کلیم میں 24 لوگ عدالتوں میں گئے جن میں سے23 رقم وصول کر چکے ہیں جبکہ ایک ایسا ہے جس نے رقم وصول نہیں کی۔ شیخ علائو الدین نے کہا کہ تعداد اور کلیم کے حوالے سے محکمہ اس معاملے کو دبانا چاہتا ہے۔ جس پر قائم مقام سپیکر نے ہدایت کی کہ صوبائی وزیر اور شیخ علائو الدین بیٹھیں اور خرابیاں دور کرنے کیلئے جو ہو سکتا ہے ان کا حل تلاش کریں۔ صوبائی وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ فیصل آباد تا ملتان براستہ سمندری ‘ رجانہ ‘ پیر محل ہائی وے کو فیز وائز تعمیر کیا جارہا ہے اور پہلے فیز کے تین گروپ بنائے گئے ہیں جن میں ساڑھے کلو میٹر کی تعمیر کے لئے 150ملین کی ایلوکیشن کر دی گئی ہے۔ فیز ٹو میں 17کلو میٹر کی تعمیر ہے جسکی پری کوالیفکشن ہو چکی ہے۔ ہمیں جیسے ہی محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سے رقم ملتی جائے گی اسے مکمل کرتے جائیں گے۔ میاں محمد اسلام اسلم کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ خانیوال سے لودھراں تک دورویہ سڑک کے منصوبے کی لاگت کا تخمینہ8.16ارب روپے لگایا گیا ہے۔ حکومتی رکن محمد عامر اقبال شاہ نے کہا کہ لاہور میں شاہراہیں دو سے تین ماہ میں مکمل ہو جاتی ہیں جبکہ اپر پنجاب کے منصوبوںکی تکمیل کی رفتار بھی اسی طرح ہوتی ہے جنوبی پنجاب میں منصوبے کیوں سالوں تاخیر کا شکار رہتے ہیں جس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت بلا تفریق صوبے میں ترقیاتی کام کرا رہی ہے اور تیس جون تک اس مد میں 115ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران میاں اسلام اسلم نے کہا کہ میں نے ایک کام کے سلسلہ میں ڈی او روڈز کو متعدد بار رابطہ کیا لیکن انہوں نے میرا فون اٹینڈ نہیں کیا، معلوم نہیں بیورو کریٹ ہمیں اچھا سمجھتے ہیں یا نہیں۔ جس پر صوبائی وزیر نے ایوان میں یقین دہانی کرائی کہ اس کا نوٹس لیا جائے گا اور اس سے باز پرس کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران قائم مقام سپیکر نے صوبائی وزرا پر زور دیا کہ جب بھی کسی محکمے کے سوالات و جواب کا دن ہو تو اس محکمے کے سیکرٹری کی بھی پنجاب اسمبلی اجلاس میں موجودگی ضروری ہونی چاہیے۔ علاوہ ازیں اجلاس میں مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی راشدہ یعقوب نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا ہے کہ تین روز قبل مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے جس میں میرے دو گارڈز شدید زخمی ہوئے ہیں۔ تین حملہ آور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جنہوں نے میرے گھر پر فائرنگ کی۔ انہوں نے سپیکر سے کہا کہ میری جان کو خطرہ ہے لہٰذا سکیورٹی کا بندوبست کیا جائے جس پر سپیکر نے کہا کہ مجھے اس واقعہ پر افسوس ہے۔ صوبائی وزیر قانون میاں مجتبیٰ شجاع نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے انہیں جس قسم کی بھی سکیورٹی درکار ہے، بندوبست کیا جائے گا۔ سپیکر نے اجلاس جمعہ 3 اپریل صبح 9 بجے تک ملتوی کردیا۔