نوازشریف کی مسلم لیگ بڑی ہے‘ انہیں دل بھی بڑا کرنا ہوگا: مخدوم احمد محمود

لاہور (خبرنگار خصوصی) فنکشنل مسلم لیگ کے سربراہ پیرپگاڑا لیگوں کے اتحاد کیلئے جو کوششیں کررہے ہیں وہ کسی قیادت کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کے محفوظ اور جمہوری مستقبل کیلئے ہیں۔ ایک متحد اور مضبوط مسلم لیگ ہی بے یقینی کی صورتحال، مایوسی اور بے چینی کے سدباب میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ہم اتحاد کیلئے اپنی نیت کے اظہار کے طور پر اپنا قدم بڑھا چکے ہیں اور ہمیں نوازشریف سمیت سب سے اچھی توقعات ہیں۔ ان خیالات کا اظہار فنکشنل لیگ کے صوبائی صدر سابق وفاقی و صوبائی وزیر مخدوم احمد محمود نے نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ منتخب حکومتیں ڈیلیور نہیں کرسکیں۔ عوام کی حالت زار میں بہتری نہیں آئی۔ گڈگورننس کا خواب حقیقت نہیں بنا۔ ملک مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے لہٰذا ملک کو درپیش چیلنجز اور مسائل سے نجات کا طریقہ یہی ہے کہ حکومتیں کسی ایسی جماعت کی بنیں جس کا ایجنڈا، منشور اور پروگرام واضح ہو جن کے دل میں قوم و ملک کا درد ہو اور جن کے مفادات پاکستان کے مفادات سے جڑے ہوں۔ اسی سوچ اور اپروچ کو لیکر باہر نکلے ہیں اور پیرپگاڑا کا حکم ہے کہ ہر مسلم لیگی کے پاس جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حالات و واقعات اور رجحانات بتا رہے ہیں کہ مسلم لیگیں متحد نہ ہوئیں تو ملک میں جمہوریت کا مستقبل نہ تو محفوظ ہوگا اور نہ محفوظ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ نوازشریف کی مسلم لیگ بڑی ہے تو انہیں دل بھی بڑا کرنا ہوگا۔ ہم نے پنجاب میں اس بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیا تھا اور سب سے پہلا شخص میں تھا جس نے شہبازشریف کو وزیراعلیٰ بنانے اور اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ہمیں وزارتیں نہیں ایک مضبوط حکومت مطلوب تھی۔ تحفظات کے باوجود ہم انکے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالات بتا رہے ہیں کہ سٹیٹس کو نہیں رہنا۔ ہمارے پاس غلطی کی گنجائش نہیں۔ ہمیں صف بندی بھی کرنی ہے، خود کو منظم بھی بنانا ہے لہٰذا مسلم لیگوں میں جو جتنا بڑا ہے اسکا عملاً اظہار کرکے آگے بڑھے۔ صرف اور صرف ایک متحد اور منظم مسلم لیگ ہی پاکستان اور جمہوریت کا مستقبل محفوظ بنا سکتی ہے۔ جس دن مسلم لیگ متحد ہوگی، مستقبل کے تمام فیصلوں کا اختیار انہیں مل جائیگا لیکن اس کیلئے جرات دکھانا ہوگی، حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نوازشریف کے بیانات پر انکی جانب سے کسی کو لینے نہ لینے کے بیانات سے غرض نہیں، مجھے تو یہ معلوم ہے کہ نوازشریف کا روشن سیاسی مستقبل بھی ایک متحد مسلم لیگ سے مشروط ہے اور جس روز یہ ہوگیا، صرف پنجاب ہی نہیں، بلوچستان، سرحد اور سندھ میں بھی مسلم لیگ ہی مسلم لیگ نظر آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب مسلم لیگ کا اتحاد حقےقت بنے گا۔