ہار گیا انسان خدا سے!

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

رب کے کرم نے بندے کو بخشا دنیا میں راج
اُس کے غصب نے چھین لئے، شاہوں کے سر سے تاج
درباروں میں خاک اڑی اور محل ہوئے ویران
مال و جان بہا کر لے گیا اک سینڈی طوفان
ہار گیا انسان خدا سے ہار گیا انسان
لوہے اور سیمنٹ کی پوچھی پانی نے اوقات
طاقت ور بنیاد نے کھائی موجِ آب سے مات
حجر و شجر بھی جڑ سے اُکھڑے اور ہوئے برباد
عیش و طرب کے ہر سامان کو لے گیا طوفان ساتھ
ہار گیا انسان خدا سے ہار گیا انسان
جاری کر دیا قدرت نے انسان کے نام، پیام
اللہ کی مرضی سے لڑنا بندوں کا نہیں کام
انسانوں کی بستی کو رکھتا ہے رب آباد
نخوت اور غرور کا آخر بُرا ہوا انجام
ہار گیا انسان خدا سے ہار گیا انسان
امریکہ پر بُری گھڑی سے خوش نہیں ہوا جہان
سیدھے سادے نیک بہت ہیں وہاں کے بھی انسان
سوچتے ہیں جو ”نیو ورلڈ آرڈر“ امریکہ کے لیڈر
بہتر ہے اللہ کو مانیں وہ بھولے نادان
ہار گیا انسان خدا سے ہار گیا انسان
جہاں جہاں امریکی فوجیں ظلم میں ہیں مصروف
لازم ہے اب اپنے گھر کو وہاں سے واپس جائیں
ختم کریں اب دنیا بھر میں آگ اور خون کا کھیل
پھو لنے پھلنے دیں دنیا کو، اپنا ملک سجائیں
ہار گیا انسان خدا سے ہار گیا انسان
امریکہ دنیا کو اپنے حق میں کرے ہموار
انسانوں سے پیار کا قائم کرے الگ معیار
کہیں بھی اسکے لئے نہ باقی نفرت اور غصہ ہو
اس سے قدم ملانے کو ہو ہر کوئی تیار
ہار گیا انسان خدا سے ہار گیا انسان