پنجاب حکومت نے سیشن ججوں کی آسامیوں میں وکلا کا کوٹہ 40 فیصد کر دیا، رولز میں ترمیم

لاہور (سپیشل رپورٹر) حکومت پنجاب نے پنجاب جوڈیشل سروسز رولز میں ترمیم کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی اسامیوں پر وکلاء کا کوٹہ 40 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے قبل ان اسامیوں پر 50 فیصد سول ججوں کی پرموشن کے ذریعے جب کہ 25 فیصد بذریعہ محکمانہ امتحان بھرتیاں جبکہ 25 فیصد میرٹ پر بھرتی کی جاسکتی تھی اب حکومت پنجاب نے جوڈیشل سروسز رولز 1994 کے سروس رولز میں تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کئے جانے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ممبرز بار کے لئے 40 فیصد آسامیاں ہوں گی جب کہ ہائیکورٹ کی پریکٹس اور ماتحت عدلیہ میں کم از کم دس سال پریکٹس کرنے والے وکیل ان پوسٹوں پر بھرتی کی درخواست دے سکیں گے۔ ان کی عمر کم از کم 35 سال جبکہ زیادہ سے زیادہ 45 سال ہونی چاہیے۔ تاہم وکیل کو بھرتی ہونے سے پہلے کریکٹر سرٹیفکیٹ فراہم کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ دیگر معاشرے کے دو معزز افراد سے بھی کریکٹر سرٹیفکیٹ لینا پڑے گا۔ لاہور ہائیکورٹ میڈیکل بورڈ بنائے گی جو اس کے ذہنی توازن درست ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔