نریندر مودی کو گرفتار کرنے والے کو ایک ارب روپے دونگا: سراج الحق

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ ہمیں زندگی کے آخری لمحے اور خون کے آخری قطرے تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی ہو گی، نریندر مودی نے سید صلاح کی گرفتاری کا حکم دیا ہے لیکن مودی سن لو تم اور تمہارے چیلے صلاح الدین کو گرفتار نہیں کر سکتے ہم نریندر مودی کے دانت توڑیں گے جو صلاح الدین کی طرف بڑھے گا وہ پاش پاش ہو جائے گا یہاں کا ہر نوجوان ہر بزرگ ایٹم بم ہے، میں کہتا ہوں جو مودی کو گرفتارکرے گا میں اسے ایک ارب روپے دوں گا، دشمن کو دشمن سمجھنا چاہیے جو دشمنوں کو دوست سمجھتے ہیں انہیں شرم کرنی چاہیے۔ میں اعلان کرتا ہوں جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اس وقت جو بھارت سے دوستی کرے گا وہ پاکستان کا غدار ہے، جو دوستی چاہتے ہیں وہ دہلی چلے جائیں ان کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں۔ راولا کوٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیلسن مینڈیلا نے اپنے عوام کے لیے 27سال جیل میں گزارے اور سید علی گیلانی نے 27سال سے زیادہ پاکستان کے لیے جیل میں گزارے ہیں، کشمیریوں سے کہا گیا کہ ہڑتال کریں وہ کرتے ہیں بائیکاٹ کا کہا جائے تو وہ کرتے ہیں کون سی قربانی ہے جو انہوں نے پیش نہیں کی اگر اسلام آباد کے حکمرانوں کو ان پر شک ہے تو اندھے ہیں، بہرے ہیں اور دشمن سے ملے ہوئے ہیں،اہل کشمیر نے قربانیاں دیں منز ل کے قریب تھے لیکن کمزور اسلام آباد کے حکمرانوں کی کمزور پالیسوں کی وجہ سے منزل دور ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی سڑکیں آج بھی کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں پیسہ تو بہت آتا ہے مگر کہاں خرچ ہوا ہے 500ارب روپے سے زیادہ جو پیسہ جمع ہوا تھا وہ کہا ں گیا،کشمیر کے نام پر جمع شدہ پیسے کدھر گئے ہم ان کا حساب مانگیں گے میں سینٹ میں کشمیریوں کی نمائندگی کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اساتذہ تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کررہے ہیں بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کررہے ہیں سارا پیسہ مراحات یافتہ طبقے پر خرچ ہوتا ہے، فساد کی جڑ اسلام آباد کا کنواں ہے جس میں گندگی پڑی ہے جب تک وہ صاف نہ ہو نہ کوئٹہ خوشخال ہوسکتا ہے نہ کراچی پشاور اور نہ مظفرآباد، انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں لوڈ شیڈنگ ہے جب کہ پانی موجود ہے، ہر دریا پر کئی ہزار بجلی پر پراجیکٹ بن سکتا ہے، کشمیریوں کو صرف 350میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم ہائوس کو یتیم خانہ بنائیں گے میں ایسے نظام کو نہیں مانتا جس میں غریب کا بیٹا گندگی کے ڈھیر پر رزق تلاش کرے اور امیر کا کتا ڈبل روٹی کھائے۔