سانحہ ڈسکہ پر وکلا کا احتجاج جاری، ہائیکورٹ، لاہور اور پنجاب بار کے وفود کی چیف جسٹس سے ملاقاتیں

لاہور (وقائع نگار خصوصی+ نامہ نگاران) سانحہ ڈسکہ پر وکلا نے گزشتہ روز بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ لاہور میں جزوی بائیکاٹ کیا جس کی بناء مقدمات کی سماعت نہ ہونے سے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وکلاء بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر فوری نوعیت کے مقدمات میں پیش ہوتے رہے۔ وکلاء ہڑتال کے باعث سینکڑوں مقدمات کی سماعت نہ کی جا سکی جس کی بناء پر سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار میں جنرل ہائوس کے اجلاس ہوئے۔ بعدازاں لاہور ہائیکورٹ بار کے ممبران نے جی پی او چوک تک احتجاجی ریلی نکالی اور دھرنا دیا۔ ہائیکورٹ بار کی متفقہ قرارداد کے مطابق وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں پولیس اہلکار کے ہاتھوں دو وکیلوں کے بہیمانہ قتل کی ذمہ داری قبول کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پنجاب کی ڈسٹرکٹ و تحصیل بارز کا لاہور ہائیکورٹ بار کی معاونت سے پُرامن تحریک چلانا ذمہ داری بن چکا ہے تاکہ وکلاء کی عزت و توقیر اور جان و مال کے تحفظ کیا جا سکے۔ قرارداد اللہ بخش گوندل ایڈووکیٹ نے پیش کی تھی۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ پنجاب بار کونسل کے رہنمائوں کی عقل و دانش نے وکلاء کو روشنی کی بجائے اندھیرے میں دھکیل دیا اس طرح راہ منزل ناپید ہو گئی۔ نامی گرامی وکلاء اپنے بھائیوں کے بہیمانہ قتل پر کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔ یوں لگا جیسے ان کو معاملہ سے دلچسپی نہیںہے۔ اس کا سبب تو وہ ہی جانتے ہیں بہرحال ان کی عدم توجہی سے وکلاء کا ظلم و بربریت کے خلاف ایکشن متاثر ہوا۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پیر مسعود چشتی کی زیر صدارت پاکستان بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس منظور احمد ملک سے ہائیکورٹ بار، لاہور بار اور پنجاب بار کونسل کے وفود نے ملاقات کی۔ وفود نے چیف جسٹس کو ڈسکہ میں وکلاء کی شہادت کے حوالے سے وکلاء برادری میں پائی جانے والی بے چینی اور جذبات سے آگاہ کیا اور کہا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کوجلد از جلد قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔ چیف جسٹس نے وکلاء رہنمائوں سے کہا کہ سانحہ ڈسکہ کے مقدمے کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہو گا۔ علاوہ ازیں وہاڑی میں ہڑتال کے دوران صدر بار محمد حسین ظہور، لیاقت کلیم بھٹی، بیرسٹر بلور لک، شہزاد نواز، ندیم رضا بخاری ،خضرحیات تارڑ رانا شعیب اصغر ایڈووکیٹس نے سانحہ ڈسکہ کے ملزموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ سیالکوٹ بار نے مشترکہ قرارداد میں ملزم شہزاد وڑائچ کو پاک رینجرز کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ وکلا نے احتجاجی کیمپ بھی لگایا جس میں صدر بار خواجہ اویس مشتاق، شاہد میر، سعدی احمد بھلی، حسن سرفراز بھلی اور دیگر نے شرکت کی۔ ڈسکہ وکلا نے جائے وقوعہ پر 2گھنٹے تک احتجاجی کیمپ لگایا اور ریلی نکالی۔ مظاہرین نے جاں بحق وکلا کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ کیمپ میں شکر اللہ گھمان، اسد اسحاق سندھ، انور مغل، اویس اسلم، قیصر جلیل ناگرہ، سہیل ریاض وڑائچ اور دیگر نے شرکت کی۔ ٹوبہ بار نے مکمل ہڑتال کی۔ صدر بار اصغر چودھری نے کہاکہ سانحہ ڈسکہ پولیس کا سیاہ کارنامہ ہے اس موقع پر مقتولین کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔