ریلوے کی نجکاری کا ارادہ ہے نہ ضرورت: سعد رفیق، چین سے کوئلے کی ترسیل کا معاہدہ

لاہور (سٹاف رپورٹر+ایجنسیاں) وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ریلوے کی نجکاری کا کوئی ارادہ ہے نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے، ملک میں پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق کوئی رکاوٹ نہیں، قوم اور ریاست کو مل کر اقتصادی راہداری کو تحفظ دینا ہوگا، ہم آنے والی نسلوں کو پُرامن اور خوشحال پاکستان دینا چاہتے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا پاکستان ریلوے کی ترقی کے لئے دن رات کوشاں ہیں اسی سلسلے میں پاکستان اور چین کے درمیان ریلوے کے ذریعے کوئلے کی ترسیل کا معاہدہ ہوا ہے۔ ساہیوال کے کول پاور پلانٹ سے 1320 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی جس کے لئے کوئی قرض نہیں لیا بلکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحت پروجیکٹ مکمل ہوگا اور دسمبر 2017ء میں پلانٹ کام شروع کردے گا جہاں کوئلے کی ترسیل کے لئے مال گاڑیوں کی ضرورت ہوگی جس کے پیش نظر دیرپا اور مناسب قیمت پر 55 نئے انجن اور مال گاڑیاں خریدیں گے۔ افسروں اور ملازمین نے انتھک محنت کرکے ریلوے کو بچا لیا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان کوئلے کی ترسیل کے معاہدے سے ریلوے کو تیس سال کا بزنس مل گیا ہے۔ ریلوے کو سالانہ ساڑھے 13ارب روپے کمائی ہو گی۔ پنجاب میں اس قسم کا پہلا پاور پراجیکٹ بننے جا رہا ہے اور پاکستان دشمن قوتیں اور بدخواہ اس کو آسانی سے مکمل نہیں ہونے دینگے۔ عمران خان کے چیئرمین نادرا سے متعلق سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ سنجیدہ سوال کر لیں۔ علاوہ ازیں ایک بیان میں سعد رفیق نے کہا ہے کہ خیبر پی کے کے بلدیاتی انتخابات میں قتل وغارتگری اور بدترین تشدد عمران کے ناکام طرزِ حکمرانی کا شاخسانہ ہے۔ اور لاء اینڈ آرڈر کی ناکامی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد کرنا پی ٹی آئی حکومت کا سفید جھوٹ ہے۔ میاں افتخار جیسے امن پسند سیاستدان کی مقدمہ قتل میں گرفتاری شرمناک سیاسی انتقام ہے۔ اپنی ناکامیاں اور گناہ دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے کا عمرانی سٹائل اور نہیں چلے گا۔ اور دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کی عادی پی ٹی آئی قیادت اپنے گریبان میں جھانکے۔