بجلی بلوں پر سرچارجز حکومت وصول کرتی ہے، جس کا کوئی احتساب نہیں: ہائیکورٹ

بجلی بلوں پر سرچارجز حکومت وصول کرتی ہے، جس کا کوئی احتساب نہیں: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) ہائی کورٹ نے بجلی کے بلوں پر سرچارجز کو غیرقانونی قرار دینے سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ عدالت نے سرچارجز کو غیر قانونی قرار دے کر واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ امر قابل تشویش ہے سرچارجز حکومت لگاتی ہے جس کا کوئی احتساب نہیں، یہ بھی نہیں بتایا جاتا کس مد میں کتنے پیسے اکٹھے ہوئے۔ صارفین سے پیسے لینے کا طریقہ کار وضع نہیں۔ سرچارجز اکٹھے کرکے مختلف اکائونٹس میں ڈالنا غیر آئینی ہے۔ طریقہ کار نہ صرف غیر آئینی بلکہ لوگوں کے ساتھ فراڈ کے مترادف ہے۔ سرچارجز کی مد میں اس طرح پیسے لینا لوگوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ سرچارجز ٹیکس ہیں تو نیپرا ایکٹ کے تحت وصول نہیں ہو سکتے۔ سرچارجز غیر قانونی ہیں، حکومت 3 ماہ میں واپس دینے کا پلان بنائے۔