لیسکو سینٹرل سرکل کے 231 میٹر ریڈر ایک ہی دن میں دوسری جگہ تبدیل

لاہور (ندیم بسرا) وفاقی حکومت کے سرکاری اداروں میں کرپشن کو ختم کرنے کیلئے  شروع کیے گئے سخت ترین اقدامات کا مظاہرہ پاکستان کی سب سے بڑی صارفین کی کمپنی لیسکو میں نظر آنے لگے۔ چیف ایگزیکٹو لیسکو ارشد رفیق کے احکامات کی روشنی میں کمپنی کے افسروں نے مانیٹرنگ سخت کر دی جس کے باعث عوام کو لیسکو میں پیش آنے والی دشواریوں میں یقینا کمی واقع ہوئی۔ واپڈا اور اس کے بعد وزارت پانی و بجلی اور پیپکو(PEPCO) کے زیرانتظام آنے والی تقسیم کار کمپنیوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لیسکو کی ایک سرکل کے تمام میٹر ریڈرز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔ لیسکو کی سنٹرل سرکل (سیکنڈ سرکل) کے ایس ای اسد اللہ نے تمام سرکل کے میٹر ریڈر 231 ایک ہی دن میں دوسری جگہ تبدیل کر دیئے۔ اتنے بڑے تبادلوں کی خبر آج سے پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ چیف ایگزیکٹو لیسکو ارشد رفیق کی ٹیم کے ایماندار افسران میں اسداللہ کا شمار ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سے قبل میٹر ریڈر پر ہاتھ کسی نے نہیں ڈالا۔ ایک مٹر ریڈر جس کی سفارش سیاسی لوگ، افسران سمیت کئی اعلیٰ شخصیات بھی کرتے ہیں جبکہ ان میٹر ریڈرز کو بیک اپ واپڈا کی ورکرز یونینز بھی کرتی ہیں تو آپ نے کیسے کہہ دیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایک ایک میٹر ریڈر ایک ہی سب ڈویژن میں 15 برس سے تعینات تھے۔ میٹر ریڈروں کی ڈیوٹیاں کسی بھی گروپ بندی، پسند و ناپسند سے پاک کمپیوٹر قرعہ اندازی کے ذریعے ہو گی انکی تعیناتی ایک کلومیٹر کے اندر موجود دفتروں میں کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میٹر ریڈرز تبدیل کرنے سے عوام کی بہتری ہوئی اور بجلی چوری کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ یہ فیصلہ عوامی مفاد کے تحت کیا گیا ہے۔