لندن میں بیٹھ کرلند کی بات ہو سکتی ہے، ملکی بہتری کے خواہاں وطن آئیں : سراج الحق

لندن میں بیٹھ کرلند کی بات ہو سکتی ہے، ملکی بہتری کے خواہاں وطن آئیں : سراج الحق

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے  کراچی اور قبائلی علاقوں کے عوام عرصہ دراز سے دہشت گردی کے ہاتھوں زخم خوردہ ہیں آئندہ بجٹ میںان کی بحالی کیلئے 100/100ارب روپے کا خصوصی پیکیج دیا جائے، حکومت عوامی غیظ و غضب کا گلہ کرنے کے بجائے اپنے منشور کو دوبارہ پڑھے اور صدق دل سے اس پر عمل درآمد شروع کردے، کچھ لوگ مارشل لاء میں جمہوریت کا ورد اور جمہوری دور میں مارشل لاء کیلئے کام کرنے کے عادی ہیں۔ حکومت قبائل کو دیوار سے لگانے کی بجائے گلے لگاکر قبائلی علاقوں میں تعلیم صحت اور روزگار مہیا کرنے کے منصوبوں کا آغاز کردے۔ قبائلی عوام بھی اسلام آباد لاہور اور کراچی کے عوام کی طرح محب وطن ہیں اور قومی وسائل پر ان کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسرے پاکستانی کا ہے۔ تمام جماعتوں نے حکومت کو آپریشن کا نہیں قیام امن کا مینڈیٹ دیا تھا لیکن حکومت نے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر آپریشن شروع کرکے عالمی طاقتوں کی پاکستان کے خلاف جاری گریٹ گیم کو کامیابی کی راہ دکھائی ہے۔ قبائلی عوام حکومت اور طالبان کے درمیان سینڈوچ بن کر رہ گئے ہیں۔ وزیراعظم خود شمالی و جنوبی وزیرستان کا دورہ کریں وہاں کے عوام حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مجلس عاملہ کے خصوصی اجلاس کے بعد منصورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر لیاقت بلوچ چاروں صوبائی امراء اور کراچی اور لاہور کے امیر اور امیر العظیم بھی موجود تھے۔ سراج الحق نے کہا لندن میں بیٹھ کر لندن کی بات ہوسکتی ہے پاکستان کی بہتری کیلئے کام کرنے کے خواہاں ملک میں آئیںاور یہاں بیٹھ کر حالات کو سدھارنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا اداروں کے درمیان تصادم کا نقصان جمہوریت کو ہوگا، حکومتیں گرانے، بنانے یا دوبارہ مینڈیٹ کا حق عوام کو ہے۔ قومی ترقی اور ملکی خوشحالی کیلئے حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے بجائے وقت دینا چاہئے اور تما م جماعتوں کو حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے، انہوں نے کہا  65سال سے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور بار بار مارشل لاء کی وجہ سے ملک نہ صرف دو لخت ہوا بلکہ آج باقی ماندہ پاکستان بھی مسائل کی دلدل میں دھنسا ہوا، گھمبیر بحرانوں کا شکار ہے۔  نواز شریف قوم پر احسان کریں اور اب ان قوتوں کو بے نقاب کردیں جو حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور قیام امن کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ وزیر اعظم کو اس بات کا پتہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں ملک میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتیں تو پھر تو انہیں ان قوتوں کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا  قبائل میں بمباری کا نشانہ معصوم بچے، عورتیں اور بوڑھے بن رہے ہیں اور تعلیم و صحت کے بچے کھچے مراکز بھی تباہ ہورہے ہیں۔ بھارت کے دورہ کے موقع پر وزیر اعظم کی طرف سے کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر بات اور حریت رہنمائوں سے ملاقات نہ کرنے سے کشمیریوں کیلئے منفی پیغام گیا۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمارا یہ تعاون ان کی آزادی تک جاری رہے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا دھاندلی کے خلاف عمران خان کی طرف سے احتجاج ان کا جمہوری حق ہے اور یہ حق ہر شہری کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا  الیکشن کمشن کو غیرجانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنانا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے ہر پاکستانی پریشان ہے۔ دریں اثنا جمعیت طلبا عربیہ پاکستان کے 40ویں سالانہ اجتماع ارکان و کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا پاکستان کا قیام لا الہ الا اللہ کی بنیا د پر عمل میں آیا اور اس عظیم مقصد کیلئے لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں، آج 65سال بعد ملک میں سیکولرازم کی بات کرنے والے قائداعظمؒ کے احکامات کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق سراج الحق نے کہا کچھ لوگ جمہوریت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ لندن میں بیٹھ کر لندن کی بات ہو سکتی ہے پاکستان کی نہیں۔ آئی این پی کے مطابق سراج الحق نے کہا حکومت بتائے وہ کونسی قوتیں ہیں جو مذاکرات کی راہ میں سپیڈ بریکر بناتی ہیں اور مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے حکومت کو جنگ کا نہیں مذاکرات کا مینڈیٹ دیا۔ حکومتیں بنانا اور گرانا عوام  کا کام ہے۔ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بہت زیادہ گرمی ہے ان حالات میں جن کے پاس لندن جانے کے ٹکٹ ہیں وہ ضرور جائیں‘ افسوس وزیراعظم نوازشریف نے نریندر مودی سے ملاقات اور دورہ بھارت کے دوران کشمیر پر ایک لفظ بھی نہیں کہا لیکن پاکستان کے 18کروڑ عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا ہم کسی بھی صورت جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے حامی ہیں اور نہ ہی جمہوریت کے خلاف بننے والے کسی اتحاد کا حصہ بنیںگے آج کچھ لوگ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور ان کا یہ  ایجنڈا جمہوریت اور پاکستان کے خلاف ہے جسے کامیاب نہیں ہونا چاہئے۔ حکومت کا قبائلی علاقوں کی آبادیوں پر بمباری اور آپریشن کرنا ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں اس لئے میں مطالبہ کرتا ہوں نوازشریف اِدھر اُدھر جانے کے بجائے شمالی اور جنوبی وزیرستان کا دورہ کریں۔ ثنا نیوز کے مطابق سراج الحق نے کہا حکومت بمباری، آپریشن کی بجائے مذاکرات سے معاملات حل کرے۔ نوازشریف دورہ بھارت کے دوران مودی سے کشمیر پر کوئی بات نہیں کر سکے اس پر ہمیں افسوس ہے۔ بلوچ عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے۔ جمہوریت ڈی ریل نہیں ہونے دینگے۔