لاہور میں 4 ماہ کے دوران 19 ہزار سے زائد وارداتیں، شہری غیرمحفوظ ہو گئے

لاہور (میاں علی افضل سے) لاہور میں 2014ء کے پہلے 4ماہ کے دوران 19 ہزار سے زیادہ وارداتوں نے شہریوں کو مکمل طور پر غیرمحفوظ بنا دیا۔ پولیس کا آپریشن ونگ وارداتیں روکنے میں ناکام ہے جبکہ کئی ماہ سے ڈی آئی جی آپریشن کی سیٹ کا چارج ایس ایس پی آپریشن کے پاس ہے جو کرائم کنٹرول نہ ہونے کی بڑی وجہ ہے۔ شہر میں وارداتوں کے 707 وارداتوں کے ملزمان کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ 9 ہزار 2 سو 45 وارداتوں کی انویسٹی گیشن ہی مکمل نہیں کی جا سکی تاوان کیلئے 10 شہریوں کو اغوا کر لیا گیا۔ ڈکیتی مزاحمت پر 15 شہریوں کو ڈاکوئوں نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ ڈاکوئوں اور چوروں نے شہریوں کے گھروں میں گھس کر ایک ہزار 756 وارداتوں میں کروڑوں روپے لوٹ لیے۔ گن پوائنٹ پر شہریوں سے 15 کاریں اور 200 موٹرسائیکلیں چھین لی گئیں جبکہ شہریوں کی 476 کاریں اور 1571 موٹرسائیکلیں چوری کر لی گئیں۔ 1006 وارداتوں کے ملزمان کے چالان کینسل کر دیئے گئے۔ سٹی ڈویژن میں 3564 وارداتیں ہوئیں۔ صدر ڈویژن میں 3 ہزار 6 سو 63، اقبال ٹائون ڈویژن میں 1 ہزار 2 سو 14، کینٹ ڈویژن میں 3 ہزار 5 سو 17، سول لائن ڈویژن میں 1 ہزار 9 سو 45، ماڈل ٹائون ڈویژن میں 4 ہزار ایک سو 17 ہوئی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث شہری خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اندھے قتل کی 25 وارداتیں ہوئیں 21 کی انویسٹی گیشن مکمل نہیں کی جا سکتی۔ وارداتوں کے 2 کیسوں کی انویسٹی گین مکمل نہیں کی جا سکتی۔ موٹرسائیکل چوری 1571 وارداتوں میں 151 وارداتوں کے ملزمان ٹریس نہیں ہو سکے جبکہ 1180 وارداتوں کے ملزمان کی انویسٹی گیشن ہی مکمل نہیں کی جا سکی۔