دفتری زبان اردو ہو جائے تو90 فیصد کرپشن ختم ہو سکتی ہے: شریف نظامی

لاہور (خصوصی نامہ نگار) اردو عالمی ادب میں تیزی سے پھیل رہی ہے بد قسمت قوم ہیں ہمارے حکمران چند ٹکوں کی خاطر کہہ دیتے ہیں کہ ذریعہ تعلیم انگریزی میں کردیں گے۔ دفتری زبان اردو میں کردی جائے تو 90فیصد کرپشن ختم ہوجائے گی۔ 73کے آئین کے مطابق فوری طور پر قومی زبان عملا رائج کردی جائے۔ ان خیالات کا اظہار معروف دانشوروں نے گذشتہ روز ہمدرد سنٹر میں ’’پاکستان قومی زبان تحریک‘‘ کے زیر اہتمام نفاذ اردو کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس کی صدارت ڈاکٹر شریف نظامی نے کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف قانون دان اے کے ڈوگر نے یقین دلایا کہ وہ آج ہی خاتون اول بیگم کلثوم نواز کو فون کرکے اس اہم ترین معاملہ کو حل کروانے کیلئے سفارش کریں گے۔ ڈاکٹر شریف الدین نظامی نے کہا اگر مقابل کے امتحانات اردو میں ہوجائیں تو تمام پرائیویٹ سکولز اردو میڈیم ہوجائیں گے۔ دفتری زبان اردو ہو جائے تو90 فیصد کرپشن ختم ہو جائے گی۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے اپنے خطاب میں کہا پوری قوم یکسو ہے کہ اردو زبان کو قومی زبان رہنا چاہیے ۔ انہوں نے معروف عالم دین ڈاکٹر طاہر القادری کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اب حکمرانوں نے کشکول واقعی توڑ دیا ہے اس کی جگہ دیگچے اور دیگوں نے لے لی ہے۔