”2014 کے دوران حکومت کی سیاسی اور معاشی پالیسیاں ناکام رہیں“

لاہور(خبر نگار) پیپلز پارٹی نے سال 2014 ء کے دوران حکومتی ، سیاسی ،معاشی اور امن و امان کی ابتر صورتحال پر حقائق نامہ جاری کر دیا۔پیپلز پارٹی پنجاب کے فنانس سیکرٹری اورنگزیب برکی، کوآرڈینیٹر پیپلز لیبر بیورو مینارٹی ونگز پنجاب عبدالقادر شاہین اور پیپلز لیبر بیور پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات محمد سلیم مغل نے کہا کہ 500 ارب روپے کے گردشی قرضہ کی ادائیگی اور نندی پور پاور پراجیکٹ بجلی کے بلوں کے ذریعے اوور بلنگ کر کے حکومتی سطح پر عوام کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ۔ وزیر اعظم کے اعلان کے باوجود آج تک بجلی صارفین سے وصول کی گئی اضافی رقم واپس نہیں کی۔ وزیر اعظم نے بیرونی ممالک کے14 دورے کیے مگر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صرف چار بار شریک ہوئے۔ دو ہفتے گزر جانے کے بعد بھی وفاقی حکومت کوئی عملی اقدام نہ اٹھا سکی۔ وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار مسلم لیگ(ن) کی مشکلات بڑھانے میں پیش پیش ہیں ۔ 60 کمیٹیوں کے سربراہ ہونے کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے غیر علانیہ نائب وزیراعظم کے منصب پر برجمان ہیں انکی وجہ سے چوہدری نثار اور راجہ ظفر الحق پس منظر میں چلے گئے ۔ نئے سال کا تحفہ جنوری سے گیس 64 فیصد تک مہنگی کرنے کا فیصلہ ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پرسمری تیار کر لی گئی۔ صارفین سے 60 ارب اکٹھے کیے جائینگے۔ حقائق نامہ کے مطابق موجودہ حکومت کے اپنے ہی دعووں اور وعدوں کے برعکس بلدیاتی انتخابات ہوئے نہ حلقہ بندیاں ہو سکیں حلقہ بندیوں کے حوالے سے قانون سازی تک مکمل نہیں کی جا سکی۔