لاہور اور نواحی علاقوں میں دہشت گردی نیٹ ورک کا سراغ نہ لگایا جاسکا

لاہور (مرزا رمضان  بیگ / وقت نیوز) حساس ادارے اور پولیس لاہور اور گردو نواح کے علاقوں میں دہشت گردی نیٹ ورک کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ حساس اداروں اور سی ٹی ڈ ی کا خیال ہے کہ القاعدہ/ تحریک طالبان نیٹ ورک کی ہائی کمان کے پنجابی دہشت گرد خاندانوں نے پنجاب کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے نیٹ ورک قائم کررکھا ہے۔ یہ نیٹ ورک شمالی وزیرستان سے آنیوالے دہشت گردوں کو لاہور اور دوسرے شہروں میں لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتا ہے۔ ہائی کمان کے یہ سارے دہشت گرد لاہور کے علاقوں حسن ٹائون، سبزہ زار اور پیکو روڈ لیاقت آباد کے رہائشی ہیں۔ انکے لاہور اور وسطی پنجاب کے دوسرے اضلاع کے انتہاپسند حلقوں میں گہرے مراسم ہیں۔ حساس ادارے، ضلعی پولیس، سپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی کی ٹیمیں ان دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہے ہیں مگر ابھی تک ان میں سے کوئی دہشت گرد ہاتھ نہیں لگ سکا۔ ان دہشت گردوں نے 2010ء میں وسطی پنجاب میںدہشت گردی کی کارروائی کیلئے لاہور میں اپنا نیٹ ورک قائم کیا اور 2011ء میں گوجرانوالہ میں دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔ حساس اداروں نے 2011ء میں اس نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا تھا مگر انکی کارروائی سے پہلے ہی یہ دہشت گرد وزیرستان میں روپوش ہوگئے تھے۔ حکومت پنجاب نے خاندان کی خواتین دہشت گردوں کے سر کی قیمت دو، دو لاکھ روپے اور دوسرے دہشت گردوں کے سروں کی قیمت پانچ، پانچ لاکھ روپے مقرر کی تھی۔ تھوڑا عرصہ قبل پنڈ رائیاں میں دہشت گردی کا کمپائونڈ میرانشاہ سے آنے والے دہشت گردوں کی مالی اعانت اور ایما پر کرائے پر حاصل کیا گیا تھا۔ حساس اداروں کو ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسی نیٹ ورک نے باجوڑ ایجنسی کی تحصیل مہمند کے دہشت گرد حنیف اللہ کو واہگہ بارڈر پر خودکش حملہ کیلئے خودکش جیکٹس اور دستی بم پہنچائے۔ حساس اداروں نے اطلاع دی ہے کہ دہشت گردوں کا یہ نیٹ ورک لاہور میں کسی تعلیمی ادارے یا پاکستان بھارت دوستی بس پر خودکش حملہ کرنے کے علاوہ وفاق اور پنجاب کی اہم شخصیات پر حملہ اور  اغوا کرنے کی کارروائی کرسکتا ہے۔