پنجاب: 6 برسوں کے دوران اشیاء کی قیمتوں میں 150 فیصد تک اضافہ ہوا، ق لیگ

لاہور (خصوصی رپورٹر)  مسلم لیگ ق پنجاب نے سال 2013 ء کے حوالے سے جاری کیے گئے حقائق نامہ میں حکومت کی کارکردگی کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل 6 سال سے پنجاب پر برسراقتدار جماعت کے عرصہ اقتدار میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 100 سے 150 فیصد تک اضافہ ہوا، 2007 ء میں چودھری پرویزالٰہی کے دور حکومت میں 20 کلو آٹے کا جو تھیلا رعایتی نرخوں پر 230 روپے میں دستیاب تھا سال 2013 ء میں ایک ہزار روپے میں فروخت ہوا، پنجاب حکومت نے کسانوں سے سستی گندم خریدی اورمہنگی بیچ کر 25 ارب منافع کمایا یہ خطیر رقم غریب کے حلق سے نکالی گئی، این ایف سی ایوارڈ کے تحت سالانہ 100 ارب روپے اضافی وسائل حاصل کرنے کے باوجود وہ صوبہ جو چودھری پرویزالٰہی کے دور حکومت کے آخری دن 100 ارب کا سرپلس تھا آج 500 ارب سے زائد کا مقروض ہو چکا ہے، کشکول توڑنے کا نعرہ لگانے والوں نے نہ صرف کشکول کا سائز بڑا کر لیا ہے بلکہ نام نہاد یوتھ قرضہ سکیم کے ذریعے ہر نوجوان کے ہاتھ سودی قرضوں کا کشکول تھما دیا، تاریخ میں پہلی بار سرکاری ہسپتالوں میں جعلی ادویات استعمال کروائی گئیں اور 150 سے زائد مریض جاں بحق ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بننے والے عناصر کو سزائیں دلوائی جاسکیں،  صوبہ میں ساڑھے تین لاکھ سنگین جرائم ہوئے 5 ہزار قتل، 12 ہزار 8 سو 62 اغواء اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں ہوئیں حکومت کی نااہلی کے باعث اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری کا جرم عام ہوا، 31 ہزار ڈکیتیاں اور 220 شہری  ڈکیتیوں کے دوران جاں بحق ہوئے، خواتین سے زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے 25 سو واقعات کے ساتھ پنجاب خواتین کے خلاف جرائم میں چھٹے سال بھی نمبر ون صوبہ رہا، کمسن بچی سنبل کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے ملزم کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود لواحقین کو انصاف نہ دلوا سکے،  2013 ء اس اعتبار سے خوش آئند سال رہا کہ جس میں سستی روٹی، پیلی ٹیکسی، گرین ٹریکٹر سکیم اور دانش سکول کے ناکام  منصوبے انجام کو پہنچے۔ نواز لیگ نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے جتنے بھی وعدے کیے تھے ان میں سے کسی ایک کا پور ا ہونا درکنار عمل کے حوالے سے پیش رفت تک نہ کرسکی بالخصوص بجلی، گیس کی لوڈ شیڈنگ میں کمی لانے کی بجائے اس کی پالیسیاں اضافہ کا سبب بنیں، تاریخ میں پہلی بار پنجاب میں CNG سٹیشنز طویل ترین دورانیہ کیلئے 100 فیصد بند کئے گئے،  صوبہ کے 36 اضلاع کے وسائل لاہور تک محدود کردیئے گئے، توانائی کا ایک بھی منصوبہ مکمل نہ ہوسکا پنجاب میں خسرہ سے 6 سو بچے جاں بحق اور ڈینگی سے 55 ہزار زائد متاثر ہوئے۔