نئے سال کے پہلے روز بھی بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ، احتجاج جاری

نئے سال کے پہلے روز بھی بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ، احتجاج جاری

لاہور (کامرس رپورٹر+ نامہ نگاران+ ایجنسیاں) ملک میں نئے سال کے پہلے روز بجلی اور گیس کی قلت کا مسئلہ شدت سے برقرار رہا جس پر شہری سراپا احتجاج بنے رہے۔ بجلی کی شاٹ فال میں مزید 500 میگاواٹ کا اضافہ ہو گیا اور اسکا مجموعی حجم جو 31 دسمبر 2 ہزار میگاواٹ تھا یکم جنوری کو بڑھ کر 2500 میگاواٹ ہو گیا ہے۔ بجلی کے شاٹ فال کو پورا کرنے کیلئے لاہور سمیت کئی شہروں میں 10 گھنٹے جبکہ دیہاتوں میں 12 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی گئی جبکہ صوبائی دارالحکومت کے متعدد علاقوں علامہ اقبال ٹائون، سید پور، سبزہ زار، ایجوکیشن ٹائون، گڑھی شاہو، باجا لائن، پاور ہائوس، سمن آباد، مغلپورہ، گارڈن ٹائون، اندرون لوہاری گیٹ، نیا بازار، چوک متی سمیت دیگر علاقوں میں گیس پریشر تقریباً ختم ہو گیا جس کے باعث ان علاقوں کے رہائشی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے گیس کی عدم سپلائی پر شدید احتجاج کیا جبکہ گھروں میں کھانا بھی نہ پک سکا اور لوگ بازار سے کھانا خریدنے پر مجبور ہوگئے۔ آئی این پی کے مطابق سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کرنے پر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں ٹھن گئی‘ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے تحریک انصاف کی طرف سے لگائے گئے احتجاجی بینرز اور پوسٹر اتار کر نذر آتش کردئیے۔ نیلم بلاک علامہ اقبال ٹائون میں تحریک انصاف کے رہنما اسد ایوب خان نے سوئی گیس کی طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف علاقے میں درجنوں احتجاجی بینرز اور سینکڑوں پوسٹر آویزاں کئے جس پر مسلم لیگ (ن) کے کارکن مشتعل ہوگئے۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں گیس کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر پر عوام کے احتجاج اور مظاہروںکے دوران سوئی گیس کے دفاتر کو نقصان پہنچائے جانے کے خدشہ کے باعث سوئی نادرن گیس نے پولیس سے دفاتر کی سکیورٹی کیلئے مدد مانگ لی۔ ذرائع کے مطابق ملک بھر میں گیس کی لوڈشیڈنگ میں اضافے کے بعد انتظامیہ کو یہ خدشہ ہے کہ عوام کے اشتعال کے نتیجے میں سوئی گیس کے دفاتر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے سے تجاوز کرگیا۔ بجلی کی سارا سارا دن اور ساری ساری رات بندش سے پار لومز تباہ ہونے لگی جبکہ دوسری جابن گیس کی بندش اور پریشر کی کمی نے شہریوں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے جس سے عوام حکمرانوں کو کوسنے لگی۔