مولانا سمیع الحق کو مذاکرات کا ٹاسک خوش آئند ہے:عاصم مخدوم، نامناسب ہے:حامد رضا

لاہور (خصوصی نامہ نگار) وزیراعظم پاکستان کی طرف سے طالبان سے مذاکرات کے لیے مولانا سمیع الحق کو ٹاسک دینے پر مختلف دینی راہنماﺅں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت علماءپاکستان کے مرکزی رہنما قاری زوار بہادر نے کہا ہے کہ میاںنوازشریف نے مولانا سمیع الحق کو طالبان سے مذاکرات کا اختیار دے کر اہم قدم اٹھایا ہے، مولانامحمدعاصم مخدوم نے کہاکہ مولانا سمیع الحق کو طالبان سے مذاکرات کا ٹاسک دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ ہم اس فیصلے کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کو طالبان سے مذاکرات کی ذمہ داری سونپنا دہشت گردوں کو بچانے کی سازش ہے۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ ریاست مخالف طالبان سے مذاکرات نہیں آپریشن کی ضرورت ہے، علامہ محمد شریف رضوی نے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کو طالبان سے مذاکرات کا اختیار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ عالمی انجمن خدام الدین کے چیئرمین اجمل قادری نے کہا مذاکرات کا ٹاسک بارش کا پہلا قطرہ ہے۔