مشرف کا ٹرائل ذاتی انتقام ہے انکے ہاتھ پر بیعت کرنیوالوں پر بھی آرٹیکل 6 لگایا جائے: طاہر القادری

 مشرف  کا ٹرائل  ذاتی انتقام ہے   انکے ہاتھ  پر بیعت  کرنیوالوں  پر بھی آرٹیکل 6 لگایا جائے: طاہر القادری

لاہور (خصوصی نامہ نگار) عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا ٹرائل ذاتی انتقام ہے، ورنہ اکتوبر 1999ء سے ٹرائل ہونا چاہیے اور مشرف کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے ججز، سیاستدان اور موجودہ حکمران جو خود فوجی آمریت کی پیداوار ہیں، جنہوں نے فوجی آمر کی گود میں جنم لیا ان پر بھی   آرٹیکل 6 لگایا جائے۔ اگر مشرف کا مارشل لاء حرام ہے تو جنرل ضیاء کا مارشل لاء بھی جائز نہ تھا۔ ان سب کا احتساب بغیر کسی امتیاز کے 1999ء سے شروع ہونا چاہیے۔ پاکستان عوامی تحریک کا آنے والا انقلاب فائنل رائونڈ اور پوائنٹ آف نو ریٹرن ہو گا۔ اگر کسی نے گولی چلائی تو میں اور میرے کارکن سینے تو پیش کر سکتے ہیں،  لیکن پر امن رہیں گے۔ آنے والی جدوجہد  میں  پاکستان عوامی تحریک  اور  تحریک انصاف  اکٹھے ہو سکتے ہیں۔  میرے اور عمران خان کے درمیان رابطے جاری ہیں، عنقریب  ملاقات ہو گی۔  وہ سنٹرل ورکنگ کونسل  کے اجلاس  سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن اور جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں مگر دھاندلی کے نظام پر آئندہ الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ سب سے پہلے وہ نظام لائیں گے جو آئین کے آرٹیکل  3، 9، 38 اور 40 کے مطابق ہو۔ قائد اعظم ؒ  کا دیا ہوا پورا دستور نافذ  کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان جعلی الیکشن کمشن بٹھانے والوں سے طاقت و اقتدار چھین کر غریبوںکو دینگے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ عمران خان اور انکے کارکن بھی تبدیلی کے طلبگار اور خواہش مند ہیں اور  عوامی تحریک کی بنیاد ہی تبدیلی اور پر امن انقلاب ہے۔ اگر یہ دونوں جماعتیں اکٹھی ہوتی ہیں تو یہ نیچرل الائنس ہو گا، انہوں نے کہا کہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی تائید کرنے والے ہمارے اتحادی نہیں بن سکتے۔