عوام اب تک کی حکومتی کارکردگی سے مایوس ہیں: منور حسن

عوام اب تک کی حکومتی کارکردگی سے مایوس ہیں: منور حسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ عوام حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے مایوس ہیں۔ تیسری بار وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالنے والے شخص سے کسی کو یہ امید نہ تھی کہ وہ سات ماہ میں عوامی مسائل کم کرنے کی بجائے ان میں مزید اضافہ کردیگا۔ حکومتی اقدامات اس بات کے گواہ ہیں کہ انہیں امریکی احکامات کی بجاآوری اور بھارت کو سر پر بٹھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ بھاری مینڈیٹ والی حکومت نے مزید پانچ چھ ماہ اسی طرح گزار دیئے اور عوام کے مسائل کی طرف توجہ نہ دی تو لوگوں کا حکومت پر اعتماد ختم ہوجائیگا اوروہ مسائل کے حل کا کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ لوگوں کے صبرکا پیمانہ لبریز ہوگیا تو حکمرانوں کیلئے اقتدار بچانا مشکل ہوجائیگا۔ مشرف کو سزا نہ ملنا حکومت اور نظام کی کمزوری کی واضح دلیل ہوگی۔ طالبان سے مذاکرات کیلئے وزیراعظم کی مولانا سمیع الحق سے درخواست خوش آئند ہے مگر یہ ایک بااختیار شخص کی بے اختیارسے فریاد والی بات ہے، حکومت اگر طالبان سے مذاکرات میں سنجیدہ ہوتی تو اسے اِدھر اُدھر ٹکریں مارنے کی بجائے طالبان کمانڈروں سے براہ راست رابطہ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔ منور حسن نے کہا کہ حکمرانی کا جتنا موقع نوازشریف کو ملا ہے پہلے کسی حکمران کو نہیں ملا، آرمی چیف اور چیف جسٹس کے رخصت ہونے اور اپنی مرضی کے صدرکے انتخاب کے بعد نوازشریف اپنے وژن پر عمل کرنے میں مکمل طور پر آزاد اور بااختیار ہیں لیکن انکی اب تک کی پالیسیوں سے قطعاً یہ احساس نہیں ہوتا کہ انہیں عوام کو درپیش گھمبیر مسائل کے حل سے کوئی دلچسپی ہے۔عوام کے اندر بڑھتی مایوسی اور بے بسی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ مہنگائی بیروزگاری اور کرپشن نے تما م سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ لوگوں کو جب کھانے کو نہیں ملے گا تو پھر وہ کسی قانون اور ضابطے کی پابندی نہیں کریں گے۔ مشرف اگر یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ انہیں بچا لے گا تو وہ بہت بڑی خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ امریکہ مشرف کی کوئی مدد نہیں کرے گا، امریکہ نے آج تک اپنے کسی ’’دوست‘‘ کو عوام کے غیظ و غضب سے نہیں بچایا۔ مشرف کیلئے یہ سزا کیا کم ہے کہ آج وہ جگہ جگہ اپنی بے بسی کا رونا رو رہے ہیں۔ مشرف بنیادی طور پر بزدل آدمی ہیں۔