دیہاڑیاں لگانے کے چکر میں کئی کئی مہینے چالان جمع نہیں کرائے جاتے

لاہور (احسان شوکت سے) انوسٹی گیشن پولیس قانون کے مطابق مقدمات کا 14دن کے اندر عدالت میں چالان بھجوانے کی بجائے ’’دیہاڑیاں‘‘ لگانے کے چکر میں کئی کئی مہینے چالان جمع نہیں کراتی ہے۔ سال 2013ء میں صوبہ بھر میں درج قتل، اقدام قتل، اغوا، اغوا برائے تاوان، زیادتی، اجتماعی ذیادتی اور بھتہ خوری کے 57 ہزار 8 سو 2 مقدمات میں سے صرف 35 ہزار 2 سو 27 مقدمات جبکہ ڈکیتی، راہزنی، نقب زنی، چوری، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، دیگر وہیکلز چوری و چھیننے کے 1لاکھ 13 مقدمات میں سے صرف 40 ہزار 4 سو 23 مقدمات کے چالان ہی عدالتوں میں جمع کرائے گئے جن میں قتل کے 6 ہزار 1 سو 87 مقدمات میں سے صرف 4 ہزار 1 سو 3، اقدام قتل کے 7 ہزار 9 سو 23 مقدمات میں سے 4 ہزار 6 سو 4، اغوا کے 15 ہزار 8 سو مقدمات میں سے 5 ہزار 39، اغوا برائے تاوان کے 1 سو 89 مقدمات میں سے 89، ریپ کے 28 سو 87 مقدمات میں سے 14 سو 83 جبکہ گینگ ریپ کے 1 سو 90 مقدمات میں سے صرف 1 سو 24 مقدمات، گاڑیاں موٹر سائیکلیں اور دیگر وہیکلز چوری کے 20 ہزار 7 سو 87 مقدمات میں سے 4 ہزار 9 سو 6 مقدمات جبکہ وہیکلز چھیننے کے 6 ہزار 6 سو 52 مقدمات میں سے صرف 3 ہزار  2 سو 76 مقدمات کے چالان جمع کرائے گئے ہیں۔ سال 2012ء میں لاہور میں قتل ہونے والے 623 مقدمات میں سے 3 سو 69 مقدمات کے جبکہ گاڑیاں موٹر سائکلیں چوری اور چیھننے کے 7ہزار 21مقدمات میں سے صرف 15 سو 94 مقدمات کے چالان جمع کرائے گئے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کیلئے مقدمات کا 14دن کے اندر عدالت میں چالان جمع کرانا ضروری ہے مگر پولیس مدعیوں اور ملزمان سے رقم ہتھیانے کیلئے تفتیش کو طول دی جاتی ہے۔ ہزاروں ان ٹریس مقدمات اور اندھے قتلوں سے پولیس کارکردگی کا پول کھل جاتا ہے۔ پولیس کی ہٹ دھرمی کے باعث عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔