مشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کیلئے پارلیمنٹ کو کردار ادا کرنا پڑا تو وہ کریگی : کائرہ

لاہور (سٹاف رپورٹر‘ نیوز رپورٹر) وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کیلئے پارلیمنٹ کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہوئی تو وہ کرے گی‘ پارلیمنٹ پہلے بھی اپنا کردار ادا کر چکی ہے اب عدالت کا کام ہے کہ انہیں سزا دے، ملک کو سب سے بڑا درپیش چیلنج وفاق کو بچانے کا ہے۔ منبر اور محراب کی نمائندگی کرنے والے ہم سے بڑے نہیں اس طبقہ کو اگر کوئی غلط فہمی ہے تو الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ میں آئے۔ لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں انہوں نے کہا پیپلزپارٹی نے کبھی ڈکٹیٹر شپ کی حمایت نہیں کی پارلیمنٹ نے 3 نومبر کے اقدام کی توثیق نہیں کی۔ مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے استعمال کے حوالے سے پارلیمنٹ کردار ادا کرچکی ہے اب یہ کام عدالت کا ہے کہ وہ اسے سزا دے۔ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ دیکھنے کے بعد ضرورت محسوس ہوئی تو اس حوالے سے پارلیمنٹ کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی سمیت کوئی بھی ادارہ مادر پدر آزاد نہیں۔ پاکستان ریلوے اور پی آئی اے مس مینجمنٹ کی وجہ سے مسلسل خسارے میں ہیں‘ اس بات سے بھی انکار نہیںکیا جاسکتا کہ پاکستان میں کرپشن ہے تاہم ہر ملک میں تھوڑی یا زیادہ کرپشن چلتی رہتی ہے۔ اس سوال پر کہ آصف علی زرداری کہتے ہیں انہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کا علم ہے پھر ان قاتلوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے کبھی نہیں کہا کہ محترمہ کے قاتلوں کا انہیں علم ہے۔ قبل ازیں انہوں نے لاہور پریس کلب کے صدر سرمد بشیر کو مالی امور کیلئے 10 لاکھ روپے کا چیک دیا۔ قمر زمان کائرہ نے ہفتہ کی سہ پہر مقامی ہوٹل میں عصرانے کے موقع پر قومی اخبارات کے مدیروں سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس موقع پر عارف نظامی‘ ارشاد احمد عارف‘ رؤف شیخ‘ بیدار بخت‘ صدیق خان‘ امتنان شاہد‘ قدرت اللہ چودھری‘ محمود صادق‘ میاں حبیب‘ خالد فاروقی‘ امجد اشفاق‘ خالد چودھری‘ جلیل آفریدی‘ خوشنود علی خان‘ چودھری غلام حسین‘ یونس صادق‘ امجد اقبال اور دیگر سینئر صحافی بھی موجود تھے۔ تقریب میں صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ‘ پی پی پی کے مرکزی رہنما چودھری منظور احمد سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ قمر الزمان کائرہ نے سپریم کورٹ کی جانب سے 3نومبر 2007ء کے اقدامات کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دینے سمیت اہم ملکی‘ سیاسی‘ سماجی‘ معاشی‘ اقتصادی اور صوبائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اخبارات کے مدیروں کو حکومتی پالیسیوں اور جمہوری استحکام کے لئے پارلیمنٹ کے کردار سے بھی آگاہ کیا اور سینئر صحافیوں کے بعض دیگر سوالات کے جوابات دئیے۔ انہوں نے صحافیوں پر ہونے والے وکلا کے تشدد پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پنجاب حکومت اپنا کردار ادا کرے گی۔ پنجاب یونیورسٹی نے ادارہ علوم ابلاغیات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کیلئے دفاعی حکمت عملی کے ساتھ فکری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ تقریب سے ڈین فیکلٹی آف سوشل اینڈ بیہیورل (Behavioural) سائنسز پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ اور ڈائریکٹر ادارہ علوم ابلاغیات پروفیسر ڈاکٹر احسن اختر ناز نے بھی خطاب کیا۔