ہربنس پورہ : پولیس کے وحشیانہ تشدد سے ایکسائز اہلکار ہلاک، 6 اہلکاروں کیخلاف مقدمہ

لاہور (نامہ نگار) تھانہ ہربنس پورہ پولیس نے وحشیانہ تشدد کرکے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے27 سالہ ملازم کو ہلاک کر دےا اور معاملہ چھپانے کے لئے لاش نہر میں پھینک دی۔ مغلپورہ پولیس نے لاش نہر سے برآمد کرکے پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے جمع کرادی اور اعلی حکام کی ہدایت پر تھانہ ہربنس پورہ کے اےک اے ایس آئی اور پانچ کانسٹےبلوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی تاہم کسی اہلکار کو گرفتار نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ فضل پارک مغلپورہ کے رہائشی محمد سرور کا بیٹا محمد رمضان محکمہ ایکسائز میں ملازم تھا۔ اس کے چھوٹے بھائی محمد رضوان کے مطابق 27مارچ کی رات ساڑھے دس بجے ہمارے گھر تھانہ ہر بنس پورہ کا اے ایس آئی مرتضیٰ ،کانسٹیبل ناصر ،کامران ،فضل الرحمن، شفاقت علی اور ایک نامعلوم کانسٹیبل آئے اور انہوں نے آتے ہی میرے بھائی رضوان کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بناناشروع کر دےا۔ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتانے سے انکار کر دیا اور میرے بڑے بھائی کو پولیس اہلکار لے گئے اور کہا کہ ہم تھانہ ہر بنس پورہ میں جا رہے ہیں ۔اسی رات میں تھانے گیا مگر پولیس نے کچھ بتانے سے انکار کر دےا۔ میں نے بھائی کو اٹھانے والے اے ایس آئی مرتضیٰ سے اپنے بھائی کے بارے میں دریافت کیا توو ہ بھی ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔گزشتہ روز یکم اپریل کو دھرم پورہ پل کے قرےب نہر سے ایک شخص کی لاش ملی جس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ پولیس نے ہمےں بتایا کہ یہ لاش میرے بھائی کی ہے ۔مےں نے مردہ خانے جا کر لاش شناخت کر لی۔ مےرے بھائی کو ہربنس پورہ پولےس نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا ہے۔ اس بارے میں تھانہ ہربنس پورہ کے ایس ایچ او آصف ذوالفقار کو بھی علم تھا۔ وہ بھی میرے بھائی کے قتل میں ملوث ہے۔ محمد رمضان نے بتایا کہ میرے بھائی کی ایک سال قبل شادی ہوئی تھی۔ اس کی بیوی صباءنے حمل ضائع کرا دیا جس کے باعث اسکے شوہر نے اس سے جھگڑا کےا اور وہ ناراض ہو کر گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ میرے بھائی کو اس کے سسرال والوں کی جانب سے قتل کرنے کی دھمکیا ں بھی دی جا رہی تھیں۔ ہمیں شبہ ہے کہ میرے بھائی کے سسرال والوں نے پولیس سے ملی بھگت کرکے قتل کرا دیا ہے۔
ایکسائز اہلکار ہلاک