نگران بسنت منانے کی بجائے پنجاب میں شفاف الیکشن پر توجہ دیں: مذہبی سیاسی رہنما

نگران بسنت منانے کی بجائے پنجاب میں شفاف الیکشن پر توجہ دیں: مذہبی سیاسی رہنما

لاہور (خصوصی نامہ نگار + کامرس رپورٹر) لاہور میں بسنت منانے کے فیصلے پر مذہبی سیاسی اور تاجر رہنما¶ں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ بسنت منانے والے منچلوں کو بزور بازو بھی روکنا پڑے تو روکیں گے، امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا کہ نگران حکومت کی جانب سے 17 اپریل کو لاہور میں بسنت منانے کا فیصلہ انتہائی قابل مذمت ہے، نگران حکومت بسنت منانے کی بجائے صوبے میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے۔ تحریک دعوت توحید پاکستان کے سربراہ مفسر قرآن میاں محمد جمیل نے کہا کہ یہ ایک خونی کھیل ہے جس میں اربوں روپے اڑا دیے جاتے ہیں،خطرناک ڈور کی تشہیری مہم پر خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے وہی پیسہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا چاہئے۔ بسنت منانے کے فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب کے ناظم اعلیٰ میاں محمود عباس نے نگران حکومت پنجاب کی ”بسنت منانے کی اجازت“ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیراعلیٰ نے اس ہندوانہ تہوار کی اجازت دے کر اسلام دشمنی اور ہندو دوستی کا ثبوت دیا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے کارکنان 17 اپریل کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے بزور بازو اسے روکیں گے، سنی تحریک کے نواز قادری نے کہا کہ نگران حکومت شاتم رسول کی یاد میں منائے جانے والے اس تہوار بسنت کو منانے کا اعلان فوری واپس لے ورنہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔ جماعت اسلامی لاہور کے امیر میاں مقصود احمد، حافظ سلمان بٹ، ڈاکٹر فرید پراچہ، امیر العظیم نے کہا کہ اپنی ذمہ داری کی طرف توجہ دیں اور اپنے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش نہ کریں۔ سپریم کورٹ پتنگ بازی کی اجازت پر ازخود نوٹس لے، حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو لاہور سمیت پنجاب بھر میں مظاہرے اور ایوان وزیر اعلیٰ ہا¶س کا گھیرا¶ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بسنت منانے کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بسنت کے نام پر خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی معصوم بچوں کے گلے کٹتے رہے۔ شدید عوامی ردعمل کی بنیاد پر سابق حکومت نے اس مکروہ تہوار پر پابندی لگا دی تھی۔ دریں اثناءآل پاکستان پیپر مرچنٹس ایسوسی ایشن کے نائب صدر خواجہ ندیم سعید وائیں نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی کی جانب سے بسنت پر عائد پابندی اٹھانے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کائٹ فلائنگ فیسٹول نہ صرف لاہور کی ثقافت کا حصہ اور عالمی سطح پر پہچان بن چکا تھا بلکہ پتنگ سازی ایک کاٹیج انڈسٹری کا درجہ اختیار کر چکی تھی اور اس کے ذریعے ہزاروں خواتین گھروں میں بیٹھ کر باعزت روزگار کما رہی تھیں لیکن پابندی نے اُن سے یہ روزگار چھین کر غربت و افلاس کی دلدل میں دھکیل دیا۔ انہوں نے نگران وزیراعلیٰ پر زور دیا شہری آبادی سے دور علاقوں میں کائٹ فلائنگ زون قائم کرنے کی تجویز پر غور کریں جن کی وجہ سے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام ہو گی۔ دریں اثناءسنی اتحاد کونسل پاکستان کے رہنماﺅں مفتی محمد حسیب قادری، پیر محمد اطہر القادری، صاحبزادہ سید صابر گردیزی، علامہ نواز بشیر جلالی، محمد نواز کھرل، پیرضیاءالمصطفی حقانی نے کہا بسنت منانے کا فیصلہ واپس لیا جائے کیونکہ بسنت غیراسلامی تہوار ہے اور اس کی وجہ سے کئی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ نگران حکومت الیکشن کرائے، سکیولر ازم لانے کے لئے بے قرار نہ ہو، بسنت کی اجازت منسوخ نہ ہوئی تو شدید احتجاج کریں گے۔ جمعیت علماءپاکستان کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر جاوید اختر نے کہا کہ نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی اپنے اختیارات سے تجاوز نہ کریں۔ انہوں نے بسنت کی اجازت دے کر نہ صرف سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ بسنت کے موقع پر گلے کٹنے سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی بھی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر بسنت منانے کی کوشش کی گئی تو اس میں ہونے والے حادثات کی تمام ذمہ داری نگران وزیراعلیٰ پنجاب پر ہو گی۔

مذہبی سیاسی ردعمل