لاہور ہائی کورٹ نے جعلی ڈگری رکھنے والوں اور نادہندگان کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن سے کل جواب طلب کر لیا.

خبریں ماخذ  |  سٹی رپورٹر
لاہور ہائی کورٹ نے جعلی ڈگری رکھنے والوں اور نادہندگان کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن سے کل جواب طلب کر لیا.

جسٹس سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی ۔درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ میں ترمیم کے بغیر الیکشن کمیشن کسی بھی امیدوار کو نااہل نہیں قرار دے سکتا اور نہ یہ واضح ہے کہ انتخابات کے لیے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر کس طریقے سے عمل ہو گا جبکہ عوامی نمائندگی ایکٹ میں صرف منتخب پارلیمنٹ ہی ترمیم کر سکتی ہے لہذا الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی جائے جبکہ الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کے باوجود ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک ارشد محمود کی تعیناتی کی گئی جو دھاندلی کی ایک صورت ہے لہذا عدالت تعیناتی کالعدم قرار دے۔ عدالت نےدرخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد سٹیٹ بنک سے جواب طلب کر لیا جبکہ الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ تفصیلی رپورٹ پیش کرے کہ آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ پر عمل درآمد کس طرح ہو گا۔