شارٹ فال 8 ہزار میگاواٹ، آل پاکستان انجمن تاجران نے ہڑتال کی کال دیدی

لاہور + ننکانہ (نیوز رپورٹر + کامرس رپورٹر + نمائندہ نوائے وقت) ملک بھر میں گزشتہ روز بجلی کی پیداوار میں کمی کے باعث شارٹ فال بڑھ کر آٹھ ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ گیا۔ پی ایس او کی جانب سے فرنس آئل کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں یومیہ کی بنیاد پر کمی ہو رہی ہے۔ شارٹ فال میں اضافہ کے باعث لوڈشیڈنگ کے دورانیہ پھر بڑھا دیا گیا۔ شہروں میں اٹھارہ گھنٹے اور دیہی علاقوں میں بائیس گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ شروع کر دی گئی ہے۔ مرمت کے نام پر بھی کئی کئی گھنٹوں تک بجلی بند کی جا رہی ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجران نے شٹر ڈاﺅن کی کال دیدی۔ چنیوٹ میں سینکڑوں مزدوروں نے دھرنا دیکر لاہور روڈ بلاک کر دی۔ تفصیلات کے مطابق ننکانہ صاحب اور گردونواح میں طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری شہر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18جبکہ دیہات میں20 گھنٹے سے بھی تجاوز کرگیا ہے بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث کاروبارزندگی بری طرح مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ایک گھنٹہ لائٹ آنے کے بعد مسلسل تین ، تین ، چار، چارگھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث گھروں میں خواتین ،بچوں اوربوڑھوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنے کے علاوہ طلباءو طالبات کا پڑھائی میں بھی شدید ہرج ہورہا ہے شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام پہلے ہی دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ لیسکو سمیت ڈسکوز کو ڈیمانڈ کے مقابلہ میں صرف 30 فیصد تک بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ بار بار لوڈشیڈنگ کے باعث لوڈ بڑھنے سے لیسکو سمیت تمام ڈسکوز کی درجنوں فیڈرز ٹرپ کر گئے۔ شہروں میں ہر گھنٹے بعد دو، دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز بھی بدترین لوڈشیڈنگ کے باعث ملک میں صنعتی پہیہ جام اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں ہزاروں افراد کو بے روزگاری کا سامنا رہا، بار بار لوڈشیڈنگ کے باعث صوبائی دارالحکومت سمیت اکثر علاقوں میں واسا کے ٹیوب ویل نہیں چل سکے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں پانی کی بھی قلت ہو گئی۔ انرجی مینجمنٹ سیل کے ذرائع کے مطابق گزشتہ روز بجلی کی مجموعی ڈیمانڈ 14740 میگاواٹ جبکہ پیداوار 6830 میگاواٹ رہی، طلب و رسد میں 7910 میگاواٹ کا فرق رہا۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے 20 گھنٹے سے زائد بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ پر شدید احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر حکومت نے لوڈشیڈنگ میں کمی کے لئے کوئی اقدام نہ کئے تو ملک بھر کے تاجروں کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی کال دیں گے۔ انہوں نے کہا بدترین لوڈشیڈنگ کے باعث کاروباری سرگرمیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق طویل لوڈشیڈنگ پر شہری بلبلا اٹھے۔ بدترین لوڈشیڈنگ نے لوگوں کے کاروبار ٹھپ کر دئیے ہیں جس کے باعث لوگوں کے لئے روزی کمانا بھی مشکل ہو گئی ہے۔
لوڈشیڈنگ