سےاستدانوں کے ہر دلعزیز شہر لاہور سے ووٹوں کی شرح ہمیشہ کم رہتی ہے: بی بی سی

لاہور (ثناءنیوز) پاکستان کے عام انتخابات مےں سےاسی جماعتےں لاہور مےں طاقت کا مظاہرہ کرکے انتخابی مہم شروع کرتی ہےں تاہم ووٹ ڈالنے کی شرح کی اعتبار سے لاہور کا شمار پنجاب کے سب سے کم ووٹ ڈالنے والے اضلاع میں ہوتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق لاہور میں ہفتے کو مینار پاکستان کا میدان ایک بار پھر سیاسی نعروں سے گونج اٹھا۔ تئیس مارچ کو اسی میدان میں پاکستان تحریکِ انصاف نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا اور پھر جمیعت علمائے اسلام نے بھی ملک گیر انتخابی مہم کے آغاز کے لیے اسی میدان کو چنا۔ قوی امکان ہے کہ گیارہ مئی سن دو ہزار تیرہ کے تاریخی عام انتخابات سے پہلے لاہور ایک سے زیادہ بار مزید سیاسی طاقت کے مظاہروں کا مرکز بنا رہے گا۔ کبھی یہاں میاں کے نعرے لگیں گے اور کبھی جیئے بھٹو کے۔تحریک انصاف کا لاہور سے انتخابی مہم کا آغاز کرنا تو سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اکثر مبصرین اسے لاہور اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں پرانی بڑی سیاسی جماعتوں کے برابر کا امیدوار سمجھ رہے ہیں۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(نواز) اب تک پنجاب کی بڑی جماعتیں رہی ہیں اور ان کا یہاں بڑا ووٹ بینک ہے۔ لیکن جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے مینار پاکستان اور اس شہر کا انتخاب اس لئے مختلف ہے کیونکہ وہ لاہور یا پنجاب کے کسی اور علاقے میں مقابلے میں نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بار بھی لاہور والے سیاسی طور پر دیگر پنجاب کے مقابلے میں غیر متحرک نظر آتے ہیں یا اس نئے ماحول میں نئی تاریخ رقم کریں گے لاہور کے لئے سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس طرح کی توجہ نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی بڑی سیاسی جماعتوں کے لئے لاہور میں بڑا سیاسی جلسہ کرنا ناگزیر سمجھا جاتا رہا ہے۔ یقیناً سمجھا یہ جاتا ہے کہ لاہور پنجاب کا سیاسی دل ہے اور لاہوریوں کی حمایت پنجاب کی حمایت کا پیش خیمہ ثابت ہوگی لیکن کیا لاہوریے واقعی انتخابات میں اتنی دلچسپی لیتے ہیں کہ دوسرے بھی ان سے متاثر ہو جائیں۔1988ءسے لے کر 2008ءتک کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا کہ ووٹ ڈالنے کی شرح کی اعتبار سے لاہور کا شمار پنجاب کے سب سے کم ووٹ ڈالنے والے اضلاع میں ہوتا ہے۔
لاہور/ انتخابات