الیکشن کمشن نے آرٹیکل 62، 63 کے کاغذات منظور کئے تو شدید عوامی ردعمل ہو گا، سیاسی قائدین

لاہور (خصوصی نامہ نگار) مذہبی سیاسی قائدین نے کہا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے 62، 63 پر پورا نہ اترنے والوں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے تو شدید عوامی ردعمل ہو گا، الیکشن کمشن کو گھبرانا نہیں چاہئے، الیکشن کمشن کسی کے ساتھ رو رعایت نہ کرے اگر الیکشن کمشن نے جنگی بنیادوں پر کام نہ کیا تو سکروٹنی کے عمل پر انگلیاں اٹھیں گی۔ نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر نے کہا کہ ایک کے سوا تمام امیدوار نااہل ہونے کی صورت میں اس حلقے سے دوبارہ کاغذات نامزدگی کی وصولی ہونی چاہیے تاکہ امیدوار مقابلہ کر کے جیتے بلامقابلہ نہ جیتے۔ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی امیدوار نااہل ہونے چاہئیں۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ امیدواروں کی چھان بین کے دوران اگر ایک کے سوا تمام امیدوار نااہل ہو جائیں تو اہل قرار پانے والے کو کامیاب قرار دینا چاہیے اور وہاں دوبارہ کاغذات نامزدگی وصول نہیں کرنے چاہئیں، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما امیر العظیم نے کہا ہے الیکشن کمشن کو امیدواروں کی چھان بین پر کسی مصلحت اور نرمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سینئر نائب صدر علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ الیکشن کمشن کسی بھی امیدوار کے کاغذات نامزدگی کی فوٹوکاپی اس حلقے کے کسی بھی ووٹر کے طلب کرنے پر فراہم کرے تاکہ لوگوں کو علم ہو سکے کہ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی تو نہیں کی۔ جے یو آئی (ف) کے مولانا امجد خان نے کہا کہ 62، 63 بڑے لیڈروں پر بھی لاگو ہونی چاہیے اگر الیکشن کمشن نے 62، 63 پر پورا نہ اترنے والوں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے تو شدید عوامی ردعمل ہو گا۔