پلاٹ، نوکریاں، رکشے نہ ملنے پر جیالوں کا ایوان اقبال کے باہر احتجاج

لاہور (خبر نگار) پیپلز پارٹی کے ورکرز نے پلاٹ، نوکریاں، رکشے نہ ملنے پر ایوان اقبال کے باہر احتجاج کیا اور پیپلز پارٹی کے 45 ویں یوم تاسیس میں شرکت کیلئے آنیوالے رہنماﺅں کے سامنے احتجاج کرتے رہے۔ پی پی 148 لاہور کے نائب صدر ملک محمد عباس نے کہا کہ لاہور میں پارٹی تنظیم درحقیقت موجود ہی نہیں ہے۔ پارٹی عہدیدار امدادی چیک بھی اپنے ورکرز میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ ق لیگ والے اپنے ورکرز کو نوکریاں تقسیم کر رہے ہیں۔ سٹیٹ لائف میں ہونیوالی نوکریاں پی پی کے کارکنوں کے بچوں کو نہیں مسلم لیگ (ق) والوں کو دی گئی ہیں۔ گوجرانوالہ کے ظفر چیمہ، یعقوب پردیسی اور شیخ ارشاد نے اپنے جسموں پر پارٹی کا جھنڈا اور احتجاجی نعرے لکھ کر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1996ءمیں انہیں بے نظیر بھٹو نے پلاٹ دیئے تھے جو آج تک نہیں ملے۔ حلقہ 121 کے سینئر کارکن اللہ نواز سیال احتجاج کرنے والے کارکنوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ لاہور کی ہوپ روڈ، پاور ہاﺅس اور بوگی روڈ کے حاجی محمد الیاس، جانی محمد رمضان اور پیر بخش جمالی بھی رکشہ نہ ملنے پر بینر پکڑ کر احتجاج کرتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے انہیں گورنر ہاﺅس میں کھانے پر بلایا تھا اور وہاں ان سے رکشے دینے کا وعدہ کیا تھا مگر ان کو رکشے نہیں ملے۔