مسلم لیگ (ن) سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر ہم خیال کے بڑے لیڈر مطمئن، چھوٹے خوف میں مبتلا

لاہور (فرخ سعید خواجہ) مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ ہم خیال کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاہدے پر مسلم لیگ ہم خیال کے دس بڑے لیڈر انتہائی مسرور و مطمئن ہیں جبکہ دیگر جن میں دوسرے تیسرے درجے کی قیادت شامل ہے اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ان کو آنے والے الیکشن میں اکاموڈیٹ نہیں کیا جائے گا۔ اس صورتحال کو سنبھالنے میں مسلم لیگ ہم خیال کے بڑے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں صورتحال چند ہفتے تک سامنے آ جائے گی اور اگر بڑے لیڈر اپنے ساتھیوں کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو مسلم لیگ ہم خیال میں پھوٹ پڑنے کا امر کافی ہے۔ مسلم لیگ ہم خیال کے چیئرمین حامد ناصر چٹھہ، سیکرٹری جنرل ہمایوں اختر خان، چیئرمین سٹیئرنگ کمیٹی سلیم سیف اللہ خان، کشمالہ طارق، میاں عطا مانیکا، غفار قریشی، میاں آصف، میجر عباس اقبال ڈار سمیت چند ایک لوگ آج ہفتے کو حامد ناصر چٹھہ کی رہائش گاہ پر جمع ہوکر اس صورت حال پر غور کریں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ پارٹی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کا اعتراض رہا ہے کہ ”معاہدے“ کو پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی یا سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی تک میں پیش نہیں کیا گیا حالانکہ پارٹی کو اپنے تمام ساتھیوں کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ معترفین سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے انہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ میں ”ٹکٹوں“ کا اہل نہ سمجھا تو ان چھوٹے لیڈروں کے سیاسی مستقبل کو شدید دھچکا لگے گا۔ مسلم لیگ ہم خیال کے صدر ارباب غلام رحیم اپنے ساتھیوں کو یہ تلقین کرنے کے باوجود کہ پارٹی کے تمام لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے اس پر عمل کروانے میں ناکام رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ہم خیال میں ٹوٹ پھوٹ کا فائدہ براہ راست مسلم لیگ ق کو پہنچے گا۔