شہر میں سیاسی بینر اور پوسٹر لگانا معمول بن گیا‘ لاکھوں کا خرچہ کون کرتا ہے سوالیہ نشان

شہر میں سیاسی بینر اور پوسٹر لگانا معمول بن گیا‘ لاکھوں کا خرچہ کون کرتا ہے سوالیہ نشان

لاہور (خبرنگار) سیاسی جماعتوں کیلئے پارٹی تقریبات کے موقع پر شہر خصوصاً شاہراہ قائداعظم کو سینکڑوں، ہزاروں بینروں، فلیکس، بل بورڈز، پوسٹرز سے بھر دینا معمول بن گیا، شہر میں ”وفاق“ سے کوئی اعلی شخصیت آئے تو اس کے روٹس پر راتوں رات بینر، پوسٹرز، سجا دئیے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ سلسلہ صرف غیر ملکی شخصیات کی آمد پر ہی دیکھنے میں آتا تھا۔ صدر زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز، فریال تالپورجب بھی آتے ہیں سڑک بینرز، پوسٹرز سے سجا دی جاتی ہے اور لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یہ رقم کس ”مد“ میں سے”نکالی“ جاتی ہے۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو صدر بننے کے بعد لاہور پہنچے تو ائر پورٹ سے ناصر باغ تک بینرز، فلیکس، پوسٹرز آویزاں کر دئیے گئے تھے۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر شاہراہ قائداعظم اور ایوان اقبال کے اردگرد ہزاروں بینرز، فلیکس اور پوسٹر آویزاں تھے۔ اس حوالے سے زکریا بٹ نے کہا کہ اس کا خرچہ رہنماﺅں نے اپنی جیب سے لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بینر پر اس کو بنوانے والے کا نام لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینرز کیلئے کبھی ”مدد“ نہیں آئی۔ اس حوالے سے پی ایچ اے سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ سڑکوں پر لگنے والے فلیکس بینرز کے حوالے سے فیس وصول کرتے ہیں مگر سیاسی جماعتوں سے ”یہ فیس“ نہیں لی جاتی۔