سیرپ سے ہلاکتیں‘ عدالت براہ راست جوڈیشنل انکوائری کا حکم نہیں دے سکتی: لاہور ہائیکورٹ

سیرپ سے ہلاکتیں‘ عدالت براہ راست جوڈیشنل انکوائری کا حکم نہیں دے سکتی: لاہور ہائیکورٹ

 لاہور (وقائع نگار خصوصی + اپنے نامہ نگار سے + نوائے وقت نیوز + نیوز ایجنسیاں) لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے زہریلے کھانسی کے شربت سے ہلاک ہونے والے 19افراد کی ہلاکتوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے عدالتی تحقیقات کرانے کے لئے دائر درخواست اعتراض لگا کر اس میں ترمیم کر کے دائر کرنے کی ہدایت کر دی۔ فاضل عدالت نے درخواست گذار کو ہدایت کی کہ جوڈیشل انکوائری کرانے کے حکم کے لئے قانون بتایا جائے جس کے ذریعے عدالت یہ حکم دے کہ معاملہ پر عدالتی تحقیقات کی جائیں۔کمشن بنانا حکومت کا کام ہے اس بارے عدالت براہ راست حکم کیسے دے سکتی ہے۔ درخواست گزار جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ پی آئی سی ادویات ری ایکشن سانحے کے باوجود حکومت پنجاب عوام کی جانوں کے تحفظ کرنے میں بری طرح نا کام ہوئی ہے۔ اے پی پی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے شاہدرہ میں ” ٹائینو سیرپ“ سے ہونے والی ہلاکتوں اور اسکے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ کے جج سے جوڈیشل انکوائری کرانے کے لیے دائر درخواست پر قرار دیا ہے کہ عدالت براہ راست جوڈیشل انکوائری کا حکم نہیں دے سکتی، انکوائری کے لئے حکومت درخواست دے سکتی ہے۔ علاوہ ازیں مقامی عدالت نے سکینڈل میں ملوث فیکٹری مالک خالد سلیم میاں کی 6 دسمبر تک عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج انجم رضا نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ انکوائری میں ثابت ہوا ہے کہ ہونے والی ہلاکتوں سے سیرپ کا کوئی کردار نہیں جبکہ اس کی مقدار پانچ سو گنا زیادہ استعمال کی گئی جس کے باعث ہلاکتیںہوئیں۔ فاضل عدالت نے ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض ملزم کی عبوری ضمانت منظور کر لی۔ علاوہ ازیں سیرپ کے معیار کی تصدیق کے لئے عالمی کمپنیوں سے رابطہ کر لیا گیا۔ محکمہ صحت پنجاب کے مطابق ابتدائی مرحلے میں سیرپ پینے سے ہلاک افراد کی علامات کے بارے میں ڈبلیو ایچ او اور برطانوی کمپنیوں کو رپورٹس بھیج دی گئی۔ سیرپ / ہائیکورٹ