تقرریوں میں بے ضابطگیوں پر پی اے سی سے اختلافات‘ نیسپاک انتظامیہ کا پیش ہونے سے بھی انکار

لاہور (نیوز رپورٹر) نیسپاک میں تقرریوں میں بے ضابطگیوں پر قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کی چیئرپرسن یاسمین رحمان اور نیسپاک انتظامیہ میں اختلافات سامنے آ گئے۔ واپڈا ہاﺅس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمین رحمان نے الزام لگایا ہے کہ ایک طرف تو نیسپاک انتظامیہ نے اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں بدعنوانیاں اور بے ضابطگیاں کی ہیں، دوسری طرف جب نیسپاک انتظامیہ سے وضاحت طلب کی گئی تو انہوں نے اپنے آپ کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یاسمین رحمان کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واپڈا ہاﺅس میں ہی موجود مینجنگ ڈائریکٹر و صدر نیسپاک اسد اسماعیل خان نے کہا ہے کہ اگر میرٹ کو نظرانداز کر کے دو افسروں کو ترقی دے دی جاتی تو نیسپاک جیسے منافع بخش ادارے کے خلاف آج یہ سازش نہ ہوتی۔ یاسمین رحمان نے کہا ہے کہ 37 میں سے 6 تقرریوں میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ انہوں نے وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے اور کمیٹی کا استحقاق مجروح کرنے والے افسروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یاسمین رحمان نے کہا کہ اگر یہ افسر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کر رہے ہیں تو عام آدمی کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہوں گے۔ اس قسم کے افسروں کی وجہ سے ہی ملک میں بجلی کا بحران ہے۔ اگر ایوان صدر اور وزارت دفاع کے افسران پبلک اکاونٹس کمیٹی کے طلب کرنے پر پیش ہو سکتے ہیں تو نیسپاک کے افسروں کو کیا مسئلہ ہے۔ ان افسروں کی تقرری کے لئے بورڈ میں سیکرٹری پانی و بجلی کی حاضری لازمی تھی لیکن ان کی موجودگی کے بغیر بورڈ نے تقرریاں کر دیں۔ انہوں نے اجلاس میں موجود ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ وہ تحقیقات کریں کے سیکرٹری پانی و بجلی کے جعلی دستخط تو نہیں کئے گئے اور اگر ایسا ہے تو ذمہ داروں کے خلاف مقدمے چلائے جائیں۔ یاسمین رحمان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے مینجنگ ڈائریکٹر و صدر نیسپاک اسد اسماعیل خان نے کہا کہ نیسپاک ایک خودمختار ادارہ ہے جس کے اپنے قوانین ہیں، نیسپاک انتظامیہ کا موقف واضح کرنے کے لئے وہ اپنے آپ کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کے لئے واپڈا ہاﺅس آئے ہیں لیکن انہیں اور ان کی ٹیم کو وضاحت کا موقع نہیں دیا گیا۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نورالحق قادری، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، نیب، ایف آئی اے اور وزارت پانی و بجلی کے اعلی افسران بھی موجود تھے۔