مدرسہ میلاد ہاﺅس میں محفل میلاد

مدرسہ میلاد ہاﺅس میں محفل میلاد

مدرسہ میلاد ہاو¿س جلیب الشیوخ میں سالانہ گرینڈ محفل عید میلاد النبی کا اہتمام کیا گیا جس میںسینکڑوں عقیدت مندوں نے شرکت کی ، محفل میں کمیونٹی کی سرکردہ سماجی، سیاسی اور مذہبی شخصیات شامل تھیں، مدرسہ میلاد ہاو¿س 2006ءسے قاری طلعت شریف نقشبندی کی زیرقیادت مذہبی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ہر جمعہ کو بعد نماز مغرب درس قرآن اور محفل نعت خوانی کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جبکہ ہر دو ماہ بعد بڑی محفل نعت منعقد ہوتی ہے، ہر سال ربیع الاول میں گرینڈ محفل میلاد النبی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ”میلاد کی بہار“ کے عنوان سے ہونے والی اس محفل میں مقامی نعت خوانوں نے گلہائے عقیدت پیش کئے جبکہ ممتاز سکالرز نے عید میلاد النبی کے حوالہ سے خطاب کیا۔ مدرسہ کے کمسن طالب علم علی رضا نے پروگرام کے ابتدائی حصہ کی نقابت کے فرائض انجام دیئے۔ تلاوت قرآن کریم کی سعادت میلاد ہاو¿س کے طالب علم حافظ محمد عثمان نے حاصل کی۔ میلاد ہاو¿س سے تعلق رکھنے والے نعت خوان حضرات محمد ارشاد و محمد طارق، محمد منیر، محمد خالد کے علاوہ محمد منور اور حاجی محمد صغیر نے اپنی خوبصورت آواز سے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ محمد جمیل، خلیفہ گھمکول شریف نے درج ذیل نعت پیش کر کے سامعین کے دلوں کو منور کیا۔
کھلا ہے سب کے لئے بابِ رحمت
وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ ہے نہ عالی
محمد عرفان کی درج ذیل نعت بہت پسند کی گئی، شرکاءنے نعت خوان کو دل کھول کر داد دی۔
آقا دی محفل غریباں دے ویہڑے
لگ گئی اے محفل تے سج گئے نے ویہڑے
بعدازاں نقابت کے فرائض یکے بعد دیگرے محمد زمان چشتی (میلاد ہاو¿س) اور قاری وحید احمد چشتی (معلم میلاد ہاو¿س) نے بڑی خوبصورتی سے انجام دیئے۔ تقریب کے میزبان قاری طلعت شریف نقشبندی نے مختصر مگر بڑا مو¿ثر خطاب کیا۔ انہوں نے درج ذیل اشعار سے اپنے خطاب کا آغاز کیا۔
اے میرے آقا تیرے دم سے ہے توقیر میری لوگوں میںورنہ اس میری ذات میں رکھا کیا ہے
آو¿ مدینے کے فقیروں سے ملیں
ارے بادشاہوں کی ملاقات میں رکھا کیا ہے
قاری طلعت شریف نقشبندی نے مدرسہ میلاد ہاو¿س کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میلاد ہاو¿س کی پہلی محفل مارچ 2006ءکے آخری ہفتہ میں خیطان جدید میں ہوئی تھی، اس وقت سے اب تک یہ محفل ہر جمعہ کو بعد نماز مغرب تک ہوتی ہے۔ 2009ءمیں مدرسہ میلاد ہاو¿س کی بنیاد رکھی گئی جس میں بچے، بچیوں کو قرآن کریم اور احادیث یاد کرائی جاتی ہیں۔ ناظرہ والے پورا قرآن کریم تجوید کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ انہیں 30 واں پارہ حفظ بھی کرایا جاتا ہے اور 40 احادیث عربی اور اردو ترجمہ کے ساتھ یاد کرائی جاتی ہیں۔ مدرسہ میں داخلہ کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں، انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ قبولیت کے لئے عمل بہت ضروری ہے۔ کوئی شخص ساری رات نعتیں پڑھتا رہے مگر نماز فجر چھوڑ دے تو اسے کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ نماز فرض ہے جبکہ نعت نفلی عبادت ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں کو پیغام دیا کہ اگر امت مسلمہ کے تمام علماءایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو عوام الناس میں انتشار ختم ہو جائے گا۔
جیسے ملتے ہیں لب نام محمد کے سبب
کاش مل جائیں ہم سب اس نام کے سبب
انہوں نے کہا کہ کویت میں کوئی بھی شخص محفل نعت اپنی رہائش گاہ پر کرانا چاہے تو اسے ہر سہولت فراہم کریں گے یعنی نعت خواں، ساو¿نڈ سسٹم وغیرہ فراہم کریں گے۔ مشتاق قادری نے میلاد النبی کے بارے میں مفصل خطاب کیا۔علامہ پیر محمد رفاقت علی نے صدارتی خطاب کیا، انہوں نے ناموسِ رسالت پر مفصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا امت مسلمہ ناموس رسالت پر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار ہے۔
انڈین کمیونٹی کی ممتاز شخصیت محمد حبیب کویا، ڈائریکٹر شرکہ نے عشق رسالت کے حوالہ سے خطاب کیا۔ یاد رہے کہ محمد حبیب کویا نے ہی کویت میں پہلی مرتبہ انٹرنیشنل میلاد کانفرنس منعقد کرائی تھی۔ جس میں 13 ممالک کے علمائے کرام شریک ہوئے تھے جن میں آسٹریلیا، امریکہ، برطانیہ، انڈیا کے علماءشامل تھے۔ پاکستان کی نمائندگی قاری طلعت شریف نقشبندی نے کی تھی۔ تقریب کے میزبان قاری طلعت شریف نقشبندی کی دعا کے ساتھ تقریب اختتام کو پہنچی۔