امریکیوں نے صدر صدام کا تختہ الٹنے کی سازش سال قبل شروع کر دی تھی: برطانوی افسران

کوےت سٹی (نمائندہ خصوصی) عراق پر حملے میں برطانیہ کے کردار کی مکمل تحقیقات کا آغاز ہوگیا۔ تحقیقات کے پہلے روز متعلقہ کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے سینیئر برطانوی افسران نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے سابق عراقی صدر صدام حسین کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی مارچ 2003ءمیں عراق پر حملے سے دو سال قبل شروع کر دی تھی تاہم برطانیہ نے 11 ستمبر 2001 ءکو امریکیوں پر دہشت گردی کے حملے تک اس قسم کی منصوبہ بندی سے خود کو علیحدہ رکھا۔ برطانوی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ جان چلکوٹ نے اعلان کیا کہ اگرچہ ان کا کام کسی کو بے گناہ یا گنہگار قرار دینا نہیں کیونکہ یہ کام عدالت بھی کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تنقید کی پروا کئے بغیر حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کریں گے کیونکہ صرف اسی صورت میں ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جان چلکوٹ کی سربراہی میں کام کرنے والی 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قبل ازیں عراق جنگ کے دوران مارے جانے والے 179 فوجیوں کے لواحقین سے بھی ملاقات کر چکی ہے جن میں سے بعض گزشتہ روز شروع ہونے والی انکوائری کے وقت موجود تھے۔ اس موقع پر بعض لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرے کے شرکاءنے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش ، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور موجودہ وزیراعظم گورڈن براﺅن کی خون آلود تصاویر والے نقاب پہن رکھے تھے۔ اس موقع پر عراق میں مارے جانے والے برطانوی فوجیوں کے لواحقین نے بتایا کہ ان کو اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ عراق پر حملے کا کوئی قانونی جواز موجود بھی تھا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سابق برطانوی وزیراعظم سے عراق پر حملے میں امریکہ کا ساتھ دینے کے حوالے سے خودسوالات کریں۔ ادھر تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے برطانوی افسران نے کہا کہ صدام حکومت سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی برآمدگی ہی عراق پر حملے کا حقیقی جواز ثابت ہوسکتی تھی جو نہیںہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ ابتداءمیں برطانیہ نے خود کو صدام حکومت کا تختہ الٹنے کے امریکی منصوبوں سے علیحدہ رکھا تھا۔