ہیپاٹائٹس سے متعلق آگہی ۔۔۔

صحرا نامہ ۔۔۔ عبدالشکور ابی حسن
ڈاکٹر کاپیشہ ایک انتہائی مقدس ہے جو دکھی انسانیت کے لئے مسیحا کا روپ ہوتے ہیں۔ وہ ڈاکٹر ز جو بغیر حرص ولالچ صرف اورصرف اللہ تعالی اور اس کے رسول ؐ کی خوشنودگی حاصل کرنے کے لئے دن رات محنت اورلگن سے کام کررہے ہوتے ہیں وہ انتہائی قابل احترام ہوتے ہیں وہ اللہ کے حضور بھی انعام پاتے ہیں اور دنیا میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یوں توکویت میں پاکستانی ڈاکٹر ز بہت موجود ہیں جو اپنی اپنی جگہ دکھی انسانیت کی خدمت میں مشغول رہتے ہیں لیکن ان میں ایک نام ڈاکٹر شجاع الدین کھوکھر ہیں جو ہم وقت دکھی انسانیت کے لئے کمربستہ رہتے ہیں اوراپنے ہم وطنوں کے لئے اپنے دل میں ان کے لئے انتہائی درد رکھتے ہیں وہ سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اورجہاں پاکستانیوں کو تکلیف پہنچتی ہو وہ ہراول دستہ ثابت ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر شجاع الدین یہی جذبہ لے کر ایک بار پاکستان بھی چلے گئے تاکہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت کریں اورگوجرانوالہ میں ایک ہسپتال تعمیر کرایا لیکن وہاں پر ڈاکٹرزمافیانے انہیں چلنے نہیں دیا کیونکہ پاکستان میں ڈاکٹرز مریضوں کی جیبوں کا صفایا کرناچاہتے ہیں لیکن بیرون ممالک سے گئے ڈاکٹر حب الوطنی میں سرشارہوکر وہاں مریض کو سستا اور معیاری علاج کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں کے عطائی ڈاکٹروں نے اپنا ایک مافیا بنا رکھا ہے جو اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کو کامیاب نہیں ہونے دیتے جس کی بناء وہ ڈاکٹر دوبارہ بیرون ممالک کا رخ کرنے پرمجبور ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شجاع الدین نے کویت میں ہمیشہ اپنے وطنوں کو مختلف بیماریوں سے آگاہی کے لئے سیمینار کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کویت میں سو سائٹی آف پاکستانی ڈاکٹرز کویت(SPDK) کے زیر اہتمام ہیپاٹائٹس اور آنتوں کی بیماریوں کے متعلق آگاہی کیلئے کویت میں مقیم پا کستانی تارکین وطن کیلئے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد کے علاوہ بنگلہ دیشی اور بھارتی باشندوں نے شرکت کی۔ سیمینار میں پا کستان کے سفیر افتخار عزیز عباسی نے بطور مہمان خصو صی شرکت کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز حافظ محمد شبیر کی تلاوت کلام پا ک سے ہوا۔ سوسائٹی آف پاکستانی ڈاکٹرز ان کویت کے صدر ڈاکٹر شجاع الدین نے ہیپاٹائٹس پر خصوصی لیکچر دیتے ہو ئے کہا کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی پاکستان کے مختلف شہروں میں اس وقت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت پاکستان میں دس ملین کے قریب لوگ ہیپا ٹا ئٹس کے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پا کستان کے کچھ علاقوں میں ہر دس میں سے ایک شخص ہیپا ٹا ئٹس بی کے وائرس کا شکار ہے۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں تین سوملین کے قریب لوگ اس موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹر شجاع الدین نے کہا کہ حکومتوں کو اس مرض کے علاج کے لئے سالا نہ چار سو اسی کروڑ روپے سالانہ خرچ کر نے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تین لاکھ کے قریب ہیپاٹائٹس سی کے مریض ہر سال مر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیپا ٹا ئٹس کی مختلف اقسام مریض کے خون، جلد پر نقش ونگار، جنسی تعلقات، آپریشن کیلئے گندے اوزاروں کا استعمال، استعمال شدہ سرینج،گندا پانی، گندی غذا کا استعمال اور حجام کے گندے بلیڈ کے استعمال کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم صفائی کا خیال رکھیں اور ڈاکٹرز اور ڈینٹل ڈاکٹرز اپنے اوزاروں کو مکمل جراثیم سے صاف رکھیں تو ہم ہیپاٹا ئٹس کو مزید بڑھنے سے روک سکتے ہیں جبکہ حکومت پا کستان کو اس سلسلہ میں سخت اقدامات کرنا ہونگے۔ اس موقع پر ڈاکٹر اقبال صدیقی جو کہ معروف فزیشنز اور معدہ کے سپیشلسٹ ہیں نے آنتوں کی بیماریوں پر تفصیل سے لیکچر دیتے ہوئے آنتوں میں سوزش اور کینسر کی علامات اور علاج کے بارے میں بتایا۔ سیمینار کے اختتام پر کویت میں پاکستان کے سفیر افتخار عزیز عباسی نے خطاب کر تے ہوئے سو سائٹی آف پا کستانی ڈاکٹرز کی اس کاوش کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے پاکستانی ڈاکٹرز پر فخر ہے جو دیار غیر میں بھی اپنے ہم وطنوں کی خدمت میں پیش پیش ہیںاوران کی صحت کی بہتری کیلئے کو شوں میں مصروف ہیں۔سیمینار میں تقریباً دو سو پچاس کے قریب افراد کا فری ہیپاٹائٹس سی چیک اپ کیا گیا۔ سیمینار میں کویت میں موجود مختلف تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی جن کے نام یہ ہیں۔ حافظ محمد شبیر، محمد عارف بٹ، اعجاز احمد رانا، اے این پی کویت سنٹر کے صدر جہانزیب، پرنسپل کرنل انجم مسعود، زاہد بٹ، پاکستان بزنس کے صدر شاہد اقبال، سوسائٹی آف پا کستانی ڈاکٹرز کویت کے ممبران ڈاکٹر محمد سعید، ڈاکٹر جمیل ہاشمی ڈاکٹر عامر، ڈاکٹر عمر، ڈاکٹر نعیم، ڈاکٹر افتخار نیازی اور ڈاکٹر ظفر شیخ ۔ سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر شجاع الدین نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پرتکلف عشائیہ پر مدعو کیا۔