اوورسیز پاکستان فائونڈیشن کا ادارہ اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے کیا جائے

ہر حکومت جب کوئی ادارہ تشکیل دیتی ہے تواس کا مقصد ہوتا ہے کہ یہ ادارہ متعلقہ افراد کو سہولیات فراہم کرے اوران کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے بدقسمتی سے پاکستان میں بننے والے ادارے متعلقہ افراد کو تحفظ فراہم میں ناکام ہی نہیں بلکہ ان کے افسران بے دریغ پیسہ استعمال کرکے قومی خزانہ پر بوجھ بنے بیٹھے ہیں ۔حکومت پاکستان نے اوورسیز پاکستانیز کیلئے ایک ادارہ ’’اوورسیز پاکستان فائونڈیشن ‘‘(OPF)بنایا تاکہ سمندرپار پاکستانیز کے مسائل کو حل کروانے میں یہ ادارہ اپنا کردار ادا کرے لیکن بدقسمتی سے اس ادارہ کے کرپٹ افسران نے ایک مافیا کا روپ دھار لیا اور آج اوورسیز پاکستانیز کے فنڈز سے یہ پلنے والا ادارہ اس قدر طاقت ور ہے کہ اس کے افسران اوورسیزپاکستانیز کو اپنا غلام سمجھتے ہیں ۔او پی ایف نے لاہور اسلام آباد میں اوورسیز پاکستانیز کے لئے ہائوسنگ سکیم شروع کیں لاہور میں 22سال اور اسلام آباد میں 11سال ہوچکے ہیں لیکن کوئی سکیم پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکی جبکہ اوورسیز پاکستانیوں نے قسطیں ادا کررکھی ہیں لیکن اوپی ایف نے سب لوگوں کے پیسے ہڑپ کرلئے ۔اوپی ایف میں سب سے بڑا گھپلا عراق کویت جنگ کے متاثرین کے معاوضہ کی رقوم کاہوا جو اقوام متحدہ نے متاثرین خلیجی جنگ کو اربوں ڈالر دئیے لیکن وہ کہاں گئے کسی کو علم نہیں بوگس کلیم بنا کر اپنے ایجنٹوںکے ذریعے اپنے ہی لوگوں کو کلیم ادا کردئیے جن لوگوں کا حق تھا وہ آج بھی در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور اپنے حق کے لئے بھوک ہڑتال کرکے موت کی آغوش میں چلے گئے اور کئی بیچارے بھیک مانگنے پر مجبورہوچکے ہیں ۔کویت کی آزادی کے بعد کویت میں مقیم متاثرین نے پاکستان سفارت خانہ کویت میں کلیم جمع کرائے جس میں سفارت خانہ نے لاکھوں دینار کمائے جب کلیم منظور ہوکرآئے تو تب بھی سفارت خانہ نے تصدیق کے نام پر لاکھوں دینار کمالئے لیکن پاکستان سفارت خانہ نے کبھی متاثرین کے حق میں کوئی بات نہیں کی شاید سفارت کار اس بات سے ڈرتے تھے کہ اوپی ایف اتنا بڑا مافیا بن چکاہے وہ کسی کوبھی نقصان پہنچا سکتا ہے جس کی وجہ سے سفارت کاروں نے چپ سادھ لی ۔جب پرویز مشرف نے پاکستان کی حکومت کی بساط لپیٹی تو انہوںنے اپنی کابینہ میں عمر اصغر کو سمندر پارپاکستانیوں کا وزیر مقرر کیا جب وہ کویت آئے تو عمر اصغر کا نوائے وقت نے انٹرویو کیا تو ان سے متاثرین خلیجی کے کلیموں کے بارے میں پوچھا تو مرحوم عمر نے بتایا کہ میں اس کی تحقیق کراتا ہوں جب انہوںنے تحقیق کا حکم دیا تو چند ماہ بعد وہ ایک حادثاتی طورپر اللہ کو پیارے ہوگئے ۔اس کے بعد پرویز مشرف نے میاں عبدالستار لالیکا کو سمندرپار پاکستانیوں کا وزیر مقررکردیا وہ بھی کویت میں آئے تو نوائے وقت نے ایک بار ان کی متاثرین خلیجی جنگ کے کلیموں کی رقم کے بارے میں توجہ مبذول کروائی تو انہوں نے کہاکہ اوپی ایف میں اربوں روپے پڑے ہیں میں تو حیران ہوں کہ ابھی تک متاثرین خلیجی جنگ کو ان کی رقوم کیوں نہیں دی گئی اورجن لوگوں نے کلیم جمع نہیں کرائے انشاء اللہ تعالی میں پاکستان جاکر دوبارہ متاثرین خلیجی جنگ کے کلیموں کو دوبارہ جمع کروانے کے لئے کہوں گا ۔میاں عبدالستار لالیکا نے واقعی اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے متاثرین خلیجی جنگ کے لئے کام کیا ابھی وہ اس میں مصروف تھے کہ وہ بھی اللہ کو پیارے ہوگے اوران کے بعد غلام سرور کو سمندرپارپاکستانیوں کا وزیر بنایا گیا تو وہ بھی کویت آئے تو نوائے وقت نے ایک بار پھر انہیں متاثرین خلیجی جنگ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہااوپی ایف کے پاس متاثرین خلیجی جنگ کا کوئی پیسہ موجود نہیں جن کے کلیم منظورہوئے تھے ان کو ان کی رقوم دے دی گئی ہے لیکن سوچنے کی بات ہے کہ جب دو وزراء نے متاثرین خلیجی جنگ کے حقوق کی بات کی وہ اللہ کو پیارے ہوگئے جب کہ جس وزیر نے اوپی ایف کی حمایت میں بات کی وہ زندہ حیات ہیں اس کے علاوہ جس نے بھی متاثرین خلیجی جنگ متاثرین کے حقوق کی بات اسے قتل کی دھمکیاں ملیں روزنامہ نوائے وقت کویت کے بیوروچیف عبدالشکور ابی حسن کو متاثرین عراق کویت جنگ کے حقوق میں مضامین نوائے وقت میں لکھے تو انہیں بھی قتل کی دھمکیاں وصول ہوئیں،عراق کویت جنگ متاثرین ایکشن کمیٹی کویت کے صدر ارشد جنجوعہ کو بھی قتل کی دھمکیاں وصول ہوچکی ہیں جبکہ سپریم کورٹ کی عدالت میںسماعت کے دوران ارشد جنجوعہ کو اوپی ایف کے افسران نے غلیظ گالیاں دیںاور اس مافیا نے متاثرین عراق کویت جنگ کو بدنام کرنے اور ارشد جنجوعہ کی کردار کشی کے لئے ایک باقاعدہ میڈیا مہم چلائی اور اس اخبار کے تراشے لئے سپریم کورٹ میں پیش کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے ان افسران کی کسی بات پر دھیان نہیں دیا اور ارشد جنجوعہ کو بولنے کا پورا موقع دیا۔15جولائی کو اسلام آباد کے ایک اخبار نے اوپی ایف کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ شائع کی جو کچھ یوں ہے۔ اخبارنے اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے عراق اور کویت جنگ کے مجموعی طورپر تقریباً95ہزار متاثرین کے کروڑوں ڈالر جنرل مشرف کے دور میں 2003ء اور 2006ء کے درمیان ہڑپ کئے گئے ۔23جولائی 2000ء کو جب اس وقت کے وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز عبدالستار لالیکا مرحوم نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ متذکرہ جنگ کے متاثرین کو آئندہ چند دنوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے بھیجے گئے 250ملین ڈالر تقسیم کئے جائیں گے اس اعلان کے چند دنوں بعد ہی عبدالستار لالیکا اللہ کو پیارے ہوگئے شائد خفیہ ہاتھ انہیں راستے سے ہٹا کر کروڑوں ڈالر غائب کرنا چاہتے تھے اسی طرح مشرف دورمیں ہی عمر اصغر خان مرحوم نے بھی جب او پی ایف کے وزیرکا چارج سنبھالاتو اوپی ایف اوردوسرے اداروں کے لوگوں کی طرف سے مبینہ غبن کے بارے میں انہوں نے تحقیقات شروع کرنے کا ارادہ کیا تو چند دنوں کے اندر وہ کراچی میں پُراسرار طورپر مردہ پائے گئے ۔عراق کویت جنگ کے متاثرین کا مسئلہ 1993ء میں شروع ہوا تو اس وقت اعجاز الحق سمندر پارپاکستانیوں کے وزیر تھے 1996ء میں جب مسلم لیگ کی دوبارہ حکومت آئی تو شیخ رشید احمد کو سمندر پارپاکستانیوں کا وزیر مقرر کردیا گیا ۔عبدالستار لالیکا کی وفات کے بعد (ق) لیگ کے غلام سرور کو سمندرپارپاکستانیوں کا وزیر بنایا گیا اسی دوران 14فروری 2005ء کو نیب چھاپا مارا تو پتہ چلاکہ عراق کویت جنگ کے متاثرین کے اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجے گئے 25ارب روپے غبن کئے جاچکے تھے ۔نیب کے چھاپے کے بعد اوپی ایف میں متعلقہ ریکارڈ تبدیل کئے گئے کمپیوٹر سافٹ وئیرغائب اور جلا دئیے گئے ۔اوپی ایف نے سپریم کورٹ میں بیان داخل کیاہے کہ متذکرہ جنگ کے متاثرین کی تعداد 74ہزار ہے جنہیں اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجی گئی رقوم تقسیم کی گیئں جبکہ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق 2000ء تک اوپی ایف اقوام متحدہ سے 44ہزار 4سو59متاثرین کے کلیم منظورکروا چکے تھے جبکہ 2000ء میں ہی مزید 5ہزار ان لوگوں کے کلیم منظور کروائے گئے۔ متاثرین خلیجی جنگ کیلئے اقوام متحدہ سے اوپی ایف نے 29کروڑ 72لاکھ 50ہزار785سوڈالر وصول کئے جبکہ انہوںنے صرف دوہزارمتاثرین کو فی کس کے حساب سے ایک ہزار چار سو چالیس ڈالر دئیے گئے جو اٹھائیس لاکھ اسی ہزار ڈالر بنتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں اوپی ایف کے دعویٰ کے مطابق بارہ ہزار متاثرین نے جعلی طریقے سے ادائیگی کے لئے کاغذات تیار کئے تھے ان متاثرین کی رقوم کو بھی افسران نے ہضم کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا او پی ایف کے افسران اس قدر طاقت ور ہیں سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود نیب اس ادارہ کے افسران سے عراق کویت جنگ متاثرین کی غبن کی گئی رقوم کو برآمد نہیں کرسکااورنہ کسی افسر سے ان کا رابطہ ممکن ہوسکا جبکہ 27اگست کو سپریم کورٹ میں متاثرین خلیجی جنگ کو 67کروڑ روپے 13390متاثرین میں تقسیم کی جانی ہے اگر دیکھا جائے تو فی کس متاثرہ شخص کو 50سے 60ہزار روپے ملیں گے جو آٹے میں نمک کے برابربھی نہیں جبکہ لوگوں کا لاکھوں روپوں کا نقصان ہوا اور انہیں ہزاروں ڈالر اقوام متحدہ کی جانب سے اوپی ایف کو وصول ہوچکے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ اوورسیز پاکستان فائونڈیشن اوورسیز پاکستانیز کے حوالے کیاجائے اور جو بیرون ممالک میں اوورسیز اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں وہ اسی تنخواہ پر کام کرنے کو تیار ہیں جو اس وقت اوپی ایف کے افسران بمعہ مراعات وصول کررہے ہیں کیونکہ جو اوورسیز پاکستانی مفلوج ہوکر اور ریٹائر ہو کر وطن واپس آئے ہیں ان کی بھی او پی ایف فنڈ سے کفالت کی جائے۔ اسی طرح اوورسیز پاکستانیوں کے بال بچوں کے لئے ڈویژن سطح پر سکول کالج اور رہائشی ہائوسنگ سکیمیں بنانے میں اوورسیز پاکستانی معاون ثابت ہوں گے۔