شہباز شریف نااہل ہوئے تو اکثریت رکھنے والا وزیراعلی بنے گا: گورنر پنجاب

لاہور / کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک+ آن لائن) گورنرپنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ ہم صوبے میں ابھی تک مخلوط حکومت بننے کے انتظار میں ہیں۔ پنجاب میں محاذ آرائی کی نہ کرناچاہتا ہوں۔ پیپلز پارٹی سے تعلق ہے اس لئے غیرجانبدار نہیں ہوسکتا۔ کراچی میں وزیراعلی سندھ سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان تاثیر نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمام مشکلات کے باوجود ملک کو سنبھالا اور ہر جمہوری قوت کو ساتھ ملایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہرقدم پرصدر کی مرضی اور حمایت شامل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی کو مارشل لاء لگانے کی جرات نہیں ہو سکتی۔ بعدازاں لاہور پہنچنے پر ائر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کوئی چیلنج ہے نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کسی تحریک کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی نااہلیت کی صورت میں جس کے پاس اکثریت ہو گی وہ وزیر اعلی پنجاب بنے گا۔ گورنر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب حکومت کا ساتھ چھوڑا تو موجودہ حکومت کو دوبارہ اعتماد کے ووٹ کیلئے کہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پورے پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتی۔گورنر پنجاب نے کہا کہ نوازشریف کے احتجاج کی ٹائمنگ غلط ہے۔ ان کے ایشوز بھی نان ایشو ہیں۔ سٹریٹ احتجاج سے کم از کم حکومتیں تبدیل ہونے کا دور گزر گیا ہے۔ نوازشریف کو وہ دور نہیں بھولا جب صدر سمیت ہر شخص ان کا تھا اور ان کے منہ سے نکلا ہر لفظ پورا ہوتا تھا تاہم اب ایسا نہیں‘ انہیں چاہئے کہ وہ اپنی حدود میں رہیں۔ انہوں نے کا کہ ججوں کی بحالی کا مطالبہ محض سیاسی ڈرامہ بازی ہے۔ سلمان تاثیر نے کہا کہ لوگوں کو سڑکوں پر آنے کی کال دینے کا نوازشریف کو کوئی حق نہیں‘ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھنا کہ شریف برادران کی نااہلی پر پورا پاکستان روئے گا غلط ہے۔ ان کی دھمکیوں سے تنگ آ چکا ہوں‘ ان لوگوں نے ایک برس میں کوئی مثبت چیز پیش نہیں کی‘ محض سیاسی تماشا بنایا ہوا ہے۔