راحیل شریف، ظہیر الاسلام یا ہارون اسلم؟ آرمی چیف کا انتخاب نواز شریف کیلئے مشکل ہو سکتا ہے: بھارتی اخبار

کراچی (اے پی اے) بھارتی اخبار ”ٹائمز آف انڈیا“ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان میں طاقت کے راہداریوں میں ملین ڈالر کا ایک سوال سرگوشیاں کر رہا ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بعد پاک فوج کا سربراہ کون ہوگا۔ چھ سال تک چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر تعیناتی کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت رواں برس نومبر میں ختم ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کےلئے اس مسئلے کے حل میں مشکل پیش آسکتی ہے۔ اگر نواز شریف کے پہلے کے بیانات کو مدنظر رکھا جائے جس میں وہ کہتے تھے کہ وہ آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے اور تین سنیئر جنرلوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے تو وہ تین جنرل ہارون اسلم، ارشاد محمود اور راحیل شریف ہیں۔ سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈو کے طور پرگزشتہ جنوری سے ہارون اسلم چیف آف لاجسٹک سٹاف تعینات ہیں۔ وہ اپریل 2014ءمیں ریٹائر ہو جائیں گے، انہیں سوات آپریشن کا کریڈٹ بھی جاتا ہے۔ اس کے بعد سنیارٹی میں ارشاد محمود ہیں۔ مسلم لیگ ن کے اندرونی ذرائع کے مطابق ارشاد محمود کے شریف خاندان کےساتھ اچھے رابطے ہیں تاہم کیانی کی توسیع کی مدت کے خاتمے کے پانچ ماہ بعد وہ بھی ریٹائر ہو جائیں گے۔ سنیارٹی میں تیسرے نمبر پر راحیل شریف ہیں جو مسلم لیگی رہنما اور وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کے قریبی دوست ہیں۔ راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ اکتوبر2014 میں متوقع ہے۔ بعض مبصرین آئی ایس آئی کے سربراہ ظہیر الاسلام کو بھی اس دوڑ میں دیکھتے ہیں۔ پاشا کی طرح ظہیر الاسلام بھی کیانی کے قریبی معتمد میں شمار ہوتے ہیں۔