کراچی: مدرسے اور مکان پر دستی بموں سے حملے‘ 4 بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق

کراچی: مدرسے اور مکان پر دستی بموں سے حملے‘ 4 بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق

کراچی (کرائم رپورٹر+ ایجنسیاں) کراچی میں مسجد اور ایک مکان پر دستی بموں سے حملوں میں 4 بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں 2 افراد جبکہ لیاری میں رینجرز سے مقابلے میں گینگ وار کے 2 کارندے مارے گئے۔ فرنٹئیر کالونی میں مدرسے پر نامعلوم افراد کے دستی بم حملے کے نتیجے میں 4بچے جاں بحق جبکہ 16 زخمی ہوگئے۔ سائٹ کے علاقے میٹروول میں مکان پر دستی بم حملہ کیا گیا جس میں ایک شخص جاں بحق ایک زخمی ہو گیا۔ نامعلوم موٹر سائیکل سوار مومن آباد پولیس سٹیشن کی حدود میں واقع مدرسے میں دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے، دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ مدرسے کی دیوار کو بھی نقصان پہنچا جبکہ کئی قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 5 سے 8 سال کے درمیان ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادرے کے مطابق ایس ایس پی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ بم دھماکہ اورنگی میں مسجد طاہری کے برابر میں واقع مدرسے میں ہوا ہے۔ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے کہ کسی نے دستی بم پھینکا ہے یا اندر ہی سے دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا ہے۔ مدرسے کی تین منزلہ عمارت چاروں طرف سے بند ہے اور اس میں جالی لگی ہوئی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ دھماکہ مدرسے کے اندر ہی ہوا ہے کیونکہ باہر سے پھینکنے کی جگہ موجود نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل سکواڈ کو جائے وقوع سے چینی ساختہ کریکر بم کی پن اور ٹکڑے ملے ہیں۔ مدرسہ طاہری کے نائب مہتم قاری فیض اللہ کا کہنا ہے کہ ان کا مدرسہ بارہ تیرہ سال سے قائم ہے اور اس میں چھ سو کے قریب طلبہ اور طالبات زیر تعلیم ہیں، جن میں اندرون سندھ، خیبر پی کے اور پنجاب کے طالب علم بھی شامل ہیں لیکن اکثریت مقامی بچوں کی ہے۔ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب بچے درس و تدریس میں مصروف تھے کہ باہر سے کسی نے کریکر پھینکا۔ بم مدرسے کے اندر لے کر آنے کی بات درست نہیں، اس واقعے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے سارے بچے مقامی ہیں۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب بچے مدرسے میں سبق پڑھ رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ایک طالب علم کو گلی سے دستی بم ملا جو وہ کلاس میں دکھا رہا تھا کہ دھماکہ ہو گیا۔ یاد رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے میں شہر میں یہ تیسرا دھماکہ ہے۔ گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن اور متحدہ کے قائد الطاف حسین نے حملے کی مذمت کی ہے۔ دوسری جانب لیاری میں رینجرز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 2 ملزمان ہلاک ہو گئے۔ قبل ازیں نے رینجرز دبئی چوک سے مقابلے کے بعد گینگ وار کے 3 ار کان کو گرفتار کیا تھا۔ ادھر رینجرز نے مزید چھیاسی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست بنا کر وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی۔ فہرست میں سیاسی،لسانی اور کالعدم تنظیموں کے ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خور بھی شامل ہیں۔ وزیراعلی سے ملزمان کے سر کی قیمت مقرر کرنے کی درخواست کی گئی ہے، ملزمان میں سے 38 کا تعلق متحدہ سے ،10 کا اے این پی سے، 10 کا سپاہ صحابہ،10 سپاہ محمد، 9 لشکر جھنگوی اور پیپلز امن کمیٹی سے ہے۔ فہرست میں شامل ملزمان ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور دیگر وارداتوں میں ملوث ہیں۔