ٹڈاپ سکینڈل کا اہم کردار، یوسف گیلانی اور امین فہیم کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گیا

کراچی (آن لائن ) ٹریڈڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 7ارب روپے سے زائدکے مالی سکینڈل کاایک اہم مہرہ محمد فردوس،سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اوروفاقی وزیر مخدوم امین فہیم کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطا بق ملزم نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیاہے کہ فریٹ سبسڈی کے فنڈزکی ریلیز کے لئے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم ہائوس میں50لاکھ روپے بطورپہلی قسط ادائیگی کی،ٹڈاپ میں کی جانے والی کرپشن کامنصوبہ یوسف رضاگیلانی کے جیل کے ساتھی فیصل صدیق خان کے ساتھ مل کر تیار کیا، کرپشن کی 65فیصدرقم سابق وزیراعظم اوروفاقی وزیرکے گروپوں میں تقسیم کی جاتی تھی جبکہ35فیصدٹڈاپ کے افسران کے حصے میں آتی تھی،وزیراعظم ہائوس میں تعینات ڈپٹی سیکرٹری محمدزبیر ٹڈاپ کے اعلی افسران کووزیراعظم کی جانب سے احکامات جاری کرتے تھے۔ محمد فردوس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو بیان حلفی میں انکشافات کئے کہ اس کے فیصل صدیق سے اس کے والدکی وجہ سے مراسم تھے۔ اس نے بتایا تھا کہ جیل میں بطور قیدی اس کی ملاقات پیپلزپارٹی کے رہنمایوسف رضا گیلانی سے ہوئی اور دونوں کے مابین اچھے دوستانہ مراسم ہوگئے،کچھ عرصے بعد یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بن گئے تو فیصل صدیق نے مجھ سے کہا  وزیراعظم کا کوئی کام بتائو، میں (محمدفردوس) نے بتایاکہ2002-03 کی فریٹ سبسڈی اسکیم کے کچھ کلیم فنڈزکی کمی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں اگر وزیراعظم ریلیزکردیں توایکسپورٹرزسے کمیشن کی مد میں اچھی خاصی رقم حاصل کی جا سکتی ہے تو فیصل صدیق خان نے کہا کہ اس کام کے سلسلے میں وزیراعظم کو پہلی قسط کے طور پرکچھ رقم دیناہوگی، محمد فردوس نے دیگر ایکسپورٹرز سے چندہ لے کر 50 لاکھ روپے جمع کئے اورفیصل صدیق  کے ہمراہ وزیراعظم ہائوس جا کر وزیراعظم کے ڈپٹی سیکرٹری محمد زبیر کو 50 لاکھ روپے ادائیگی کی، بعدازاں وزیراعظم ہائوس میں یوسف رضاگیلانی  ملاقات کے بعد وزیراعظم ہائوس کی ہدایت پر43 کروڑ60 لاکھ روپے فریٹ سبسڈی کی مد میں جاری ہوگئے۔ فنڈز جاری ہونے کے بعدمحمد فردوس اورٹڈاپ کے بروکرز میاں محمد طارق، ہارون رشید رئیسانی نے فیصل صدیق  کی مشاورت سے کاغذی ایکسپورٹ کمپنیوں کے جعلی کلیم داخل کئے اور فریٹ سبسڈی کی 90 فیصد رقم کاغذی کمپنیوں کوجاری کی گئی پھر سالانہ فریٹ سبسڈی کی مد میں اربوں روپے کاغذی کمپنیوں کو جاری کئے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ فریٹ سبسڈی کی مد میں کی جانے والی لوٹ مار 2 گروپوں میں تقسیم کی جاتی جن میں ایک گروپ وفاقی وزیرمخدوم امین فہیم کا تھا جبکہ دوسرا گروپ یوسف رضاگیلانی کا تھا۔