کراچی میں اے ایس آئی سمیت 10 افراد ٹارگٹ کلرز کا شکار‘ 3 نوجوانوں کی نعشیں برآمد

کراچی (کرائم رپورٹر) کراچی کے مختلف علاقوں میں پیر کو تشدد اور فائرنگ کے واقعات میں تھانیدار سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق گلستان جوہر کے بلاک سیون میں مسلح افراد نے پٹرول پمپ پر لوٹ مار کے دوران فائرنگ کر کے کیشئر ولی محمد کو قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔ ولی محمد وزیرستان کا رہنے والا تھا۔ نارتھ ناظم آباد کے علاقے پہاڑ گنج میں فائرنگ سے 65 سالہ بہادر گل ہلاک ہو گیا۔ چاکیواڑہ میں بھی مسلح افراد نے اندھا دھند گولیاں برسانے سے 35 سالہ آسیہ حنیف ہلاک اور نوجوان مراد زخمی ہو گیا جبکہ قائد آباد کے علاقے میں تین مسلح افراد نے منی بس میں فائرنگ کر دی جس سے کامران ہلاک اور کانسٹیبل فیاض زخمی ہو گیا۔ اس کے علاوہ نیو کراچی میں یوپی موڑ کے  نزدیک مسلح افراد نے ایک شخص 35 سالہ اختر علی کو ہلاک کر دیا اور بلدیہ ٹائون کے علاقے عبداللہ گوٹھ میں تین افراد کی گولیوں سے چھلنی نعشیں ملیں۔ اس کی شناخت 30 سالہ عبدالرحمان مری ولد صالح محمد اور 35 سالہ نجیب اللہ محسود کی حیثیت سے ہوئی۔ قبل ازیں زمان ٹائون  کے علاقے کورنگی نمبر ڈھائی ابراہیم حیدری روڈ پر پیارے فیکٹری کے نزدیک سے بھی ایک 24 سالہ نوجوان حاجی لالو کی نعش ملی اسے بھی فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ دریں اثناء نارتھ کراچی میں موٹرسائیکل سوار نامعلوم افراد نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں برسا دیں جس سے ایک اے ایس آئی جاں بحق اور دوسرا اہلکار شدید زخمی ہو گیا۔ علاوہ ازیں لیاری گینگ وار کے اہم کردار لالہ اورنگی نے جرائم سے توبہ کا اعلان کر دیا۔ عوام کے نام وڈیو پیغام میں لالہ اورنگی نے پی پی رہنما عبدالقادر پٹیل کو قتل کرنے کی سپاری ملنے کا بھی اعتراف کیا۔