مجید نظامی نے مضبوط پاکستان بنانے میں کردار ادا کیا: غوث علی شاہ

کراچی (خصوصی رپورٹر) سابق وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) غوث علی شاہ نے کہا ہے کہ مجید نظامی نے ہمیشہ ایک مضبوط اور آزاد پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کیا، وہ ایک بہت اچھے دوست بہت اچھے انسان‘ بہت اچھے مسلم لیگی‘ بہت اچھے مسلمان اور بہت اچھے صحافی تھے۔ وہ نظریہ پاکستان کا مشن چلا رہے تھے اس میں وہ کراچی سے پشاور تک سب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فرزندان پاکستان کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس‘ تقسیم سولہواں فرزندان پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی تعلیمی ایوارڈ 2014ء کی تقریب میں صدارتی خطاب کررہے تھے جس کا اہتمام فرزندان پاکستان نے سکائوٹ آڈیٹوریم میںکیا تھا۔ اس موقع پر مقررین میں شاہد رشید سیکرٹری نظریہ پاکستان ٹرسٹ‘ آزاد بن حیدر‘ بشیر احمد جھمرہ‘ فرید خان یوسف زئی‘ معراج الہدیٰ صدیقی‘ رانا محمد احسان‘ نصرت مرزا‘ نجیب اللہ نیازی‘ رانا اشفاق رسول‘ ظہیر احمد تبسم اور کمال ندیم و دیگرنے خطاب کیا۔ بعد ازاں میٹرک اور انٹر بورڈ کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو ایوارڈز دیئے گئے۔ غوث علی شاہ نے مزید کہا کہ ڈاکٹر مجید نظامی ہر جابر حاکم کے سامنے کھڑے رہے اور سچی و حق بات کہنے سے گریز نہیں کیا۔ میں نے دیکھا جب ایٹم بم بن چکا تھا مجید نظامی نے وزیراعظم نوازشریف کو براہ راست پیغام بھیجا کہ اگر آپ دھماکہ نہیں کریں گے تو قوم آپ کا دھماکہ کردے گی۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ انہوں نے قائداعظم کی اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھا کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نہیںچل سکتا۔ مجید نظامی نے بھارت کے ساتھ بات چیت میں ہمیشہ کہا کہ بھارت سے پہلے کشمیر پر بات چیت کی جائے اور اگر مجید نظامی کو ہم آگے بڑھائیں تو ان کی روح خوش ہوگی۔ مجید نظامی نے قائداعظم اور اقبال کی فلاسفی کو آگے بڑھایا ۔ لندن سے حمید نظامی نے جب مجید نظامی کو بلایا تو انہوں نے ذمہ داریاں سنبھالیں حمید نظامی کے بعد مجید نظامی نے نوائے وقت کو اس مقام پر پہنچایا جس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے کہا کہ پاکستان انشاء اللہ قیامت تک قائم رہے گا۔ اس وقت تک نظریہ پاکستان کا چرچا رہے گا۔ نظریہ کی ترویج و اشاعت کرنے والوں میں مجید نظامی کا نام رہے گا ایسے نظریات کے چراغ خون دے کر جلائے جاتے ہیں مجید نظامی ساری زندگی فروغ تعلیم کیلئے کوشاں رہے نئی نسل میں نظریہ پاکستان کو اجاگر کیا۔ شاہد رشید نے کہاکہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے ذریعے مجید نظامی نے 48 لاکھ طالب علموں تک نظریہ پاکستان کا پیغام پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجید نظامی نے ہر موقع پر خواتین کو آگے بڑھنے کا موقع دیا تاکہ خواتین ہر شعبے میںترقی کرسکیں۔ مجید نظامی ایک مشن تھے ایک تحریک تھے یہ مشن جاری رہے گا۔ محترمہ رمیزہ نظامی‘ مجید نظامی کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں ۔ جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ اس ملک میں روایت‘ اقدار اور مقاصد بدل رہے ہیں صحافت کسی تجارت میں تبدیل ہوگئی ہے لیکن اس موقع پربھی وہی مجید نظامی تھے جنہوں نے اقدار‘ اخلاق ‘ اسلام اور نظریہ پاکستان اور کشمیر کا پرچم بلند رکھا تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کو کسی سازش کے تحت ختم کیا جا سکتا ہے۔ نریندر مودی سرحدوں پر بمباری کروا رہا ہے۔ نریندر مودی شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالنے والا ہاتھ واپس لے کر نہیں جائے گا  آج یہاں پاکستان کے باصلاحیت نوجوان موجود ہیں حیدر کرا رکے چاہنے والے مشرقی پاکستان کا انتقام لے کر رہیں گے۔ تحریک پاکستان جاری ہے ہمیں تعمیر پاکستان اور تکمیل پاکستان کرنا ہے ۔ مجید نظامی کی فکر ‘ سوچ او رنظریہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ جناح تھنکرز فورم کے صدر اور ممتاز دانشور و مصنف آزاد بن حیدر نے کہا ہے کہ مجید نظامی نے ساری عمر کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب غافل ہوچکے ہیں پاکستان نظریاتی ملک ہے یہودیوں نے یہ لکھ دیا تھا کہ ہمیں ہندوستان کو مضبوط کرنا ہے ماضی کو دیکھیں تومشرقی پاکستان چلا گیا لیکن ہم نے نظریئے کو قبول نہیں کیا یہ پلازہ ‘ بڑی بڑی عمارتیں کس لئے بنارہے ہیں صرف نظریہ پاکستان کے لئے ہے قائد اعظم کا ایک بہت بڑا سپاہی ہم سے جدا ہوگیا آزاد بن حیدر نے کہا کہ لیلۃ القدر کی رات تھی جب پاکستان بنا تھااور اس لیلۃ القدر کو مجید نظامی دنیا سے رخصت ہوئے فرید یوسف زئی نے کہاکہ جب سے پاکستان بنا ہے یہ محنتیں اور کاوشیں نظریہ پاکستان کے لئے ہیں اس طرح کے پروگرام طلبا کے لئے پورے پاکستان میں ہونے چاہئیں۔ مجید نظامی کے قریبی ساتھی بشیراحمد جھمرہ نے کہا کہ لندن میں بیرسٹری کی تعلیم کے دوران میری مجید نظامی سے اقامت رہی۔ وہ وقت ہمارا تھا۔ اور وقت اور نوائے وقت کے ساتھ ہم ہمیشہ رہیں گے۔ 1954ء سے 2014ء تک مجید نظامی کی رفاقت کی داستان ساٹھ سال پر محیط ہے انہوں نے کہا کہ میں نے مجیدنظامی کے حکم پر کراچی میں نوائے وقت کی عمارت دیکھی اخبار کا اجراء کیا اور نوائے وقت کا دفتر قائم کیا۔ انہوں نے بتایاکہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے مجید نظامی پرماہنامہ نظریہ پاکستان کا خصوصی نمبر شائع کیا ہے۔ یہ خصوصی شمارہ مجید نظامی کی خدمات کے حوالے سے مقررین اور مہمانوں میں تقسیم کیا گیا۔ رانا محمد احسان نے کہا کہ پاکستان سے محبت کرنے والے ہر آدمی کو پاکستان کے لئے کام کرنا ہے مجید نظامی ایک بڑی اہم شخصیت ہے اس نظریئے اور اخبار کے لئے ساری زندگی وقف کی پاکستان کے لئے سوچتے رہے اور پاکستان کے لئے کام کرتے رہے۔ فرید خان یوسف زئی نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے یہ محنتیں اور کاوشیں نظریہ پاکستان کے حوالے سے ہیں اس طرح کے پروگرام پورے پاکستان میں طلبا کے لئے ہوتے رہنا چاہئیں اس پروگرام کو پھیلانے کی ضرورت ہے۔ فرزندان پاکستان کے چیئرمین رانا اشفاق رسول نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں مسلسل22 سال تک مجید نظامی کے ساتھ رہا اور مجھے بڑا فخر ہے کہ اس طویل عرصے تک میں نے ان کا اعتماد حاصل کیا۔ نظریہ پاکستان اور پاکستان سے محبت مجید نظامی کی تربیت ہی کا نتیجہ ہے۔ یہاں ایک سلسلہ ایوارڈ کی شکل میں جاری ہے۔ نظریہ پاکستان کا فروغ ہمارا مقصد ہے اپنے محسنوں کی اچھی اچھی باتیں نوٹ کرنا اور اس پر عمل کرنا ہی اصل بات ہے۔ مجید نظامی کی خواہش تھی کہ ہم قائداعظمؒ‘ علامہ اقبالؒ اور اکابرین کو سامنے رکھیں اور ان کی یہ بڑی خواہش تھی کہ ہم پاکستان کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنائیں۔ رانا اشفاق رسول نے کہا کہ میرٹ پر جو بچے آتے ہیںانٹر بورڈ اور میٹرک کی سطح پر پوزیشن  لیتے ہیں ہم ان کی فہرست کو سامنے رکھتے ہیں میں تمام مہمانوںکا ممنون ہوں غوث علی شاہ جج ہیں اور میں وکیل ہوں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے شاہد رشید کے ساتھ 31 برسوںسے ایک تعلق ہے ان کے مجھ پر احسانات ہیں۔ تقریب سے نصرت مرزا نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجید نظامی سے میرا رشتہ تیس برس تک رہا ان کے حوالے سے 30 سال کی رفاقت اور سیاست کا تذکرہ کیا جائے تو بڑی اہم باتیں ہیں۔  نظریہ پاکستان مجید نظامی اور نوائے وقت لازم و ملزوم تھے۔ انہوں نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا۔ ہم نے انکے ایماء پر کراچی میں نظریہ پاکستان کوشش میں تقریری مقابلے کرائے اسکولوں میں پذیرائی کا سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے ساتھ ساتھ طرز حکمرانی کے سلسلے میں مجید نظامی نے ہمیشہ کلمہ حق ادا کیا۔ قبل ازیں اس موقع پر سلطان مسعود شیخ‘ جنید نذیر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے رانااشفاق رسول کی خدمات کو سراہا اور اس پروگرام تواتر سے انعقاد کو ان کا اہم کام قرار دیا۔ ظہیر احمد تبسم جنرل سیکرٹری فرزندان پاکستان نے گذشتہ برس کی کارکردگی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعلیمی میدان میںپوزیشن ہولڈر کو انعامات دیکر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ قائدین کے مزارات پر قومی دنوں پر حاضری دیتے ہیں اور اپنے محسنوں کو یاد رکھتے ہیں میں ان تمام کالج کے پرنسپل کا مشکور ہوںجنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ تقریب کی نظامات رانا اشفاق رسول اور صدر فرزندان پاکستان کمال ندیم نے کی۔ قاری محمد ادریس نے تلاوت کی اور نعت رسولﷺ کومل سلیم نے پیش کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر مجید نظامی تعلیمی ایوارڈ2014ء تقسیم کئے گئے جو صدر تقریب غوث علی شاہ اور مہمانان گرامی کے ہاتھوں تقسیم کئے گئے سولہویں فرزندان پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی تعلیمی ایوارڈ حاصل کرنے والے مندرجہ ذیل طلبا و طالبات شامل ہیں۔میٹرک سائنس مروہ تنویر (عثمان پبلک اسکول نارتھ ناظم آباد بلاک جے)‘ ماہ نور رحمان (عثمان پبلک اسکول نارتھ ناظم آباد بلاکJ )‘ محمد انس غنی (میٹروپولیٹن اکیڈمی فیڈرل بی ایریا نصیر آباد)‘ سعد خالد کلثوم بائی ولیکا سی اے اے‘ میٹرک جنرل 2014ء حافظ انثاء صدیقی (اقراء حفاظ گرلز سیکنڈری اسکول نارتھ ناظم آباد بلاکB) حافضہ لبابہ مستقیم(اقراء حفاظ گرلز سیکنڈری اسکول نارتھ ناظم آباد بلاکB) حافظ حانیہ وقاص(اقراء حفاظ گرلز سیکنڈری اسکول نارتھ ناظم آباد بلاکB) انٹر کامرس2014ء اثناء اسلم بنت محمد اسلم(فیڈرل گورنمنٹ گرلز انٹر کالج) طریفہ خان بنت محمد زبیر(زبیر پبلک ہائر سیکنڈری اسکول)‘ ثانیہ سہیل بنت سہیل نصیر (ڈی اے ڈگری کالج فار وومین فیزVIII)‘ انٹر سائنس پری انجینئرنگ2014ء محمد حسنین حسن ولد محمد ساج(دہلی گورنمنٹ کالج فارمین کریم آباد) محمد سالک سلام ولد عبد السلام (آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج) خزیمہ ولد محمد سہیل صلات( ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج) عائشہ محبوب(BAMM گورنمنٹ کالج فار وومن PECHS) انٹر سائنس جنرل کمپیوٹر2014ء حرا سلمان بنت سلمان احمد(بحریہ کالج کارساز)‘ پریشہ بشیر بنت حافظ بشیر احمد (BAMM گورنمنٹ کالج فاروویمن PECHS)‘ محمد مدثر ولد علی اکبر ردا جانی(کالج آف ایمرجنگ ٹیکنالوجی) انٹر سائنس پری میڈیکل 2014ء بھوانہ بائی بنت بھیم راج(گورنمنٹ کالج فاروومین شاہراہ لیاقت)‘ مہرین عمرزبیر بنت محمد عمیر(لیاقت کالج آف مینجمنٹ اینڈ سائنسز) سید فیضان علی ولد فراست علی(آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج) خوش بخت کرار بنت سید کرار رضا(سینٹ لارنس گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج)‘ سدرا محمد حسین بنت محمد حسینBAMM( گورنمنٹ کالج فاروومین PECHS) خصوصی ایوارڈ‘ بہترین کارکردگی پرنسپل اقراء فار گرلز سیکنڈری اسکول‘ ناظم آباد‘ خصوصی ایوارڈ‘ بہترین تعلیمی کارکردگی بیرسٹر سحر اکرام رانا۔