تھر :مزید 5 بچے جاں بحق‘ ہلاکتیں بھوک سے نہیں غربت سے ہوئیں: وزیراعلیٰ سندھ

تھر :مزید 5 بچے جاں بحق‘ ہلاکتیں بھوک سے نہیں غربت سے ہوئیں: وزیراعلیٰ سندھ

کراچی + مٹھی+ چھاچھرو( ایجنسیاں+ نوائے وقت نیوز+نامہ نگار) ضلع تھرپارکر میں قحط کے باعث غذائی قلت معصوم بچوںکی ہلاکتیں جاری ہیں۔ پیر کے روز بھی ضلع تھر پارکر میں مزید 5 بچے اپنی زندگی کھوچکے ہیں۔ چھاچھرو کے پرائیویٹ ہسپتال میں تین بچے جبکہ سول ہسپتال مٹھی میں بھی دو بچیاں جاں بحق ہوگئیں۔ رواں ماہ کے دوران بچوں کی تعداد26 ہوگئی ہے جب کہ چھاچھرو او رمٹھی کے سرکاری ہسپتالوں میں کئی بچے زیر علاج ہیں۔ علاوہ ازیں غذائی قلت کے باعث چھاچھرو کے ہسپتال میں 3بچیاں جبکہ مٹھی کے ہسپتال میں 2 بچے دم توڑ گئے۔ رواں ماہ تھر پار کر اور ملحقہ علاقوں سے سول ہسپتال علاج کے لئے لانے جانے والے 28بچے جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اب بھی کئی بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھر کے 16لاکھ لوگوں کےلئے 2ارب روپے کی گندم فراہم کی اور ہم کیا کریں، تھر میں بچے بھوک سے نہیں غربت سے مرے ہیں، غربت سے تو پنجاب میں بھی سینکڑوں بچے مرتے ہیں، تھر کے ہسپتالوں کی حالت آج سے نہیں برسوں سے خراب ہے، پچھلی حکومتوں نے اس پر توجہ کیوں نہیں دی، آج کا میڈیا بہت ایڈوانس ہو گیا ہے، ریکارڈ سے تعداد بتائی جاتی ہے تو یہ 10کر دیتے ہیں، ہر کسی کی محنت پر پانی پھیر دیا جاتا ہے، کوئی محنت کرتا ہے تو اس کو ماننے میں کسی کو عار نہیں ہونی چاہئے، ہم نے تھر میں بہت محنت کی ہے، ماضی کی حکومتوں نے تھر میں کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا تھر میں 16لاکھ لوگ رہتے ہیں، اب 16 لاکھ لوگوں کو ایک ساتھ بٹھا کر کھانا تو کھلا نہیں سکتے۔ اے پی اے کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا مٹھی ہسپتال کا معیار کراچی کے سول ہسپتال کے برابر ہے کسی کو شک ہے تو مٹھی جائے اور وہاں کے ہسپتالوں کا موازنہ سندھ کے دیگر ہسپتالوں سے کرلے۔ حکومت پر بلاجواز تنقید نہ کی جائے، کسی کو عداوت ہے تو معافی مانگ لیتے ہیں، ایم کیو ایم کے سید سردار تھرپارکر کا دورہ کریں وہ کہیں کہ ہماری وجہ سے حالات خراب ہوئے تو ہم معافی مانگنے کے لئے تیار ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ