کراچی: پولیس سے جھڑپ میں 4 اغوا کار ہلاک، 5 کروڑ کے لئے اٹھایا گیا بچہ بازیاب

کراچی (کرائم رپورٹر) اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل کے عملہ نے حب چوکی کے قریب کارروائی کرکے خونریز پولیس مقابلہ میں 4 اغوا کاروں کو ہلاک کر کے 13 سالہ بچے کو بازیاب کرا لیا، ایک اغوا کار کو زخمی حالت میں ساتھی سمیت گرفتار کر لیا گیا، دو پولیس اہلکار بھی مقابلے میں زخمی ہوگئے، واقعہ کے مطابق 24 مئی کو لیاری گینگ وار کے مسلح اغوا کار ڈیفنس کے علاقے سکول کے باہر سے اسلحہ کے تاجر رضوان ڈوسل کے 13 سالہ بیٹے مصطفیٰ کو اغوا کر کے لے گئے اور بعد ازاں مغوی کے والد کو فون کر کے 5 کروڑ روپے تاوان طلب کیا جس پر انہوں نے پولیس میں مقدمہ درج کرا دیا۔ چھان بین کے بعد ڈیفنس فیز فائیو میں چھاپہ مار کر ریٹائرڈ کسٹم افسر کے بیٹے تیمور کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تو ملزم نے بتایا کہ مغوی کو حب چوکی کے قریب ایک مکان میں رکھا گیا ہے جس پر پولیس نے ملزموں کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا تو انہوں نے فائرنگ کر دی۔ معلوم ہوا ہے کہ مغوی بچہ مصطفی نویں جماعت کا طالب علم ہے اور فیس بک پر اس کی دوستی ملزم تیمور کے بھائی ارسلان سے ہوئی تھی اور ارسلان نے اسے ملنے کے بہانے بلوا کر اغوا کاروں کے حوالے کردیا تھا۔ بازیاب ہونے والے مصطفی کا کہنا تھا کہ اسے اغواءکاروں نے دو روز تک تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور کھانا پینا بھی نہیں دے رہے تھے۔ سی پی ایل کے چیف احمد چنائے کے مطابق مقابلے میں ہلاک ہونے والے دو ملزمان ماجد ولد امجد اور امتیاز ولد اعظم کی شناخت ہو گئی ہے جو بالترتیب لیاری اور مواچھ گوٹھ کے رہنے والے تھے۔
حب چوکی / پولیس مقابلہ