مدارس اور علما کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے: مفتی منیب الرحمن

کراچی (نیوز رپورٹر) تنظیم المدارس اہلسنّت پاکستان کے صدر مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ 16 دسمبر 2014ء کے سانحے کے بعد پوری قوم دہشت گردی کیخلاف یکسو ہوچکی ہے اور اِس مسئلے پر پہلی بار ایک قومی وملی اتفاقِ رائے پیدا ہوا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان اور اکیسویں آئینی ترمیم میں دہشت گردی کے دیگر تمام عوامل اور اسباب سے صرفِ نظر کرکے صرف مدارس اور’’مذہب و مسلک ‘‘کو جو ہدف بنایا گیا ہے اس پر ہمارے شروع ہی سے تحفظات ہیں لیکن اسکے باوجود قوم و ملک کے عظیم تر مفاد میں ہم نے دہشت گردی کے خلاف ہر مہم اور پروگرام کی حمایت کی۔ اسی طرح اکیسویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں قائم کی جانیوالی فوجی عدالتوں کی بھی حمایت کی۔ ہم حکومت اور اسکے تمام ذمہ داروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلاجواز اور بلاامتیاز اہل مدارس اور علما کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بندکیا جائے، یہ حکمت و دانش کے منافی ہے۔ ہم دینی مدارس کی پانچوں تنظیمات کی طرف سے ایک اقرار نامہ حکومت کو دے چکے ہیں کہ حکومت کے پاس اگر ثبوت وشواہد ہیں تو وہ بلاتاخیر ایسے مدارس یا افراد کی فہرست جاری کرے، ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے، لیکن مبہم انداز میں ہرخرابی کو بلاتعین مدارس کی طرف منسوب کرنا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ دینی مدارس کا ڈیٹا جمع کرنے کا طریقۂ کار حکومت کے ساتھ باہمی مذاکرات سے جلد طے ہوجائیگا اور اس پر بلا تاخیر عملدرآمد بھی شروع ہوجائیگا۔ اسی طرح جو مدارس پہلے سے قائم ہیں اور وہ رجسٹرڈ نہیں ہیں، انہیں رجسٹریشن کی تکمیل کیلئے مناسب وقت دیا جائیگا۔ ہم حکومت کو پیشکش کرتے ہیں کہ ایک مشترکہ جائزہ کمیٹی بنائی جائے اور بے قصور لوگوں کو نہ چھیڑاجائے اور قصور وار لوگوں کو قرار واقعی سزادی جائے۔