کراچی بدامنی کیس‘ سپریم کورٹ نے رینجرز کی رپورٹ مسترد کر دی ‘ ڈی جی کی طلبی

کراچی بدامنی کیس‘ سپریم کورٹ نے رینجرز کی رپورٹ مسترد کر دی ‘ ڈی جی کی طلبی

کراچی (نوائے وقت نیوز + اے پی اے ) سپریم کورٹ نے سندھ میں ملزموں کا ریکارڈ تین ماہ میں کمپیوٹرائزڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔ بد امنی کیس میں رینجرزکے لیگل افسر کی رپورٹ مسترد کر تے ہوئے آئندہ سماعت پر ڈی جی رینجرز کو طلب کر لیا ہے۔ کراچی بدامنی کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کی گئی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے پیرول پر رہا ملزموں سے متعلق رپورٹ پیش کی جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیرول پر رہا ملزموں کی مجموعی تعداد70 اور مقدمات کی تعداد 177 ہے۔ شہادت اعوان نے کہاکہ غلط کام ہوا ، اسی لئے اسے واپس لے رہے ہیں۔ رینجرز نے گزشتہ 22 روز میں گرفتار ہونے والے ملزموں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ رینجرز نے 63 چھاپے مارے 64 ملزموں کو گرفتار کیا، جسٹس امیر ہانی نے کہا کہ آپ کی رپورٹ اطمینان بخش نہیں آپ کی پہلی رپورٹ مبہم تھی ، تفصیلی رپورٹ پیش کریں اور ڈی جی رینجرز بھی عدالت میں آئیں۔ ججز نے کہا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سے کئے جانے والے اندراجات کی چھان بین کی جائے ¾ ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیں¾ ورنہ کیس نیب کو بھیجا جائےگا ¾ رینجرز دو دو ماہ تک ملزم اپنے پاس رکھ کر پولیس کے حوالے کریں گے تو کسی کو سزا نہیں ملے گی۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سندھ میں ملزموں کا ریکارڈ تین ماہ میں جدید خطوط پر کمپیوٹرائزڈ کرنے کا حکم دےتے ہوئے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ اس کےلئے فنڈز فراہم کریں۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ملزموں کا ریکارڈ مرتب ہوگا تو انہیں رہائی نہیں مل سکے گی۔ لارجر بینچ نے سکھر اور دادو جیل ٹوٹنے اور ملزموں کے فرار کی رپورٹ بھی طلب کرلی۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سرزنش کرتے ہوئے جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہاکہ محکمہ ریونیو قبضہ مافیا کی سرپرستی کررہاہے، زمینوں سے متعلق 80 فیصد اندراج جعلی ہیں، ,3 کو 300 اور 4 کو 400 اور 5 کو 500 بنایا گیا ،یہ ریکارڈ میں نے خود دیکھا سرکاری زمینوں کا اسی فیصد اندراج بوگس ہے، جس پر سینئر ریونیو افسر نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ زمینوں پر قبضے کا سب سے گندا ریکارڈ کراچی اور جامشورو کا ہے جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریونیو افسر سے کہا کہ کتنے کرپٹ افسروں کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے ریکارڈ پیش کریں۔کبھی کسی اسسٹنٹ کمشنر کیخلاف کارروائی نہیں کی۔ کیا آپ کے وہاں پر جلتے ہیں۔ انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ ریونیو نے کوئی کارروائی نہ کی تو معاملہ نیب کو بھیجنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ سپریم کورٹ نے کراچی امن و امان کیس میں سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو حکم دیا کہ 1997ء سے اب تک سندھ کی تمام جیلوں سے سزا یافتہ پےرول پر چھوڑے جانے والوں سمیت تمام قیدیوں کا ریکارڈ طلب عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے ایک موقع پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے گزشتہ سماعت میں عدالت کو غلط اعداد و شمار پیش کئے جن کی بنیاد پر آرڈر پاس کئے گئے اب آپ نئے اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں جس میں پیرول پر چھوڑے جانے ملزموں کیلئے رہائی کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پیرول پر کوئی شخص رہا نہیں ہوتا صرف جنازہ میں شرکت کیلئے دو، تین روز کیلئے چھوڑا جاتا ہے ہوم ڈیپارٹمنٹ کوئی حکومت نہیں ہے، صرف حکومت سندھ ہی حکومت کہلاتی ہے جس کے سربراہ وزیراعلی ہیں۔ پیرول کے تحت ملزم کو ایک سے5 دن تک کسی عزیز کی موت پر رہا کیا جا سکتا ہے۔ پیرول کے تحت ملزموں کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے کہا کہ 70 ملزموں پر 170 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ شہادت اعوان نے کہا کہ 2003-05ء تک پیرول پر رہا 35 ملزموں کے خلاف 70 کیسز تھے 34 کیسز میں ملزم بری ہوئے 4 ملزموں کواشتہاری قرار دیا گیا۔ 14 مقدمات کی تفصیلات نہیں مل سکیں، آئی جی جیل خانہ جات نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ 1997ءسے اب تک زیر سماعت مقدمات میں 70 ملزم پیرول پر رہا ہوئے۔ سندھ حکومت نے اسلحہ لائسنس کی نئی پالیسی کا اعلان کر دیا جس کے تحت 25 سال سے کم عمر کسی شخص کو اسلحہ لائسنس نہیں دیا جائیگا۔ ایڈیشنل سیکرٹری وسیم احمد نے نئی پالیسی عدالت میں پیش کی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 25 سال سے کم عمر کسی شخص کو اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جائیگا جبکہ جرائم پیشہ افراد کا اسلحہ لائسنس منسوخ کر دیا جائیگا۔ثنا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے ازسرنو حلقہ بندیاں نہ کرنے پر سیکرٹری الیکشن کمیشن کو طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ نئی حلقہ بندیوں کا عمل شفاف الیکشن کے قیام کے لئے ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کے نمائندہ نے کہا کہ قانون کے مطابق مردم شماری کئے بغیر حلقہ بندیاں نہیں کی جا سکتیں جس کے جواب میں جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ جس شق کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ اس کیس کے فیصلے پر لاگو نہیں ہوتی۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ماضی میں کی گئی حلقہ بندیاں لسانی فسادات کا باعث بنی ہیں۔ شفاف الیکشن کے قیام کے لئے نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں۔