سندھ اسمبلی نے بجٹ کی منظوری دیدی ، دہشتگردی کے خاتمے ، وزیر اعظم کی صحت کیلئے دعا

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی نے اپوزیشن کے زبردست شور شرابے میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی کثرت رائے سے منظور دیدی ۔ قبل ازیں رواں مالی سال 2015-16ء کے ضمنی بجٹ کی کثرت رائے سے منظور ی دی گئی ۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس سپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اجلاس میں کراچی میں شروع ہونیوالی دہشت گردی کی حالیہ لہر کے خاتمے ، دہشت گردی میں شہید ہونیوالوں اوروزیر اعظم نواز شریف کی صحت کیلئے بھی دعا کی گئی ۔بعد ازاں رواں مالی سال 2015-16ء کیلئے حکومت کی طرف سے 44 ارب روپے 17 کروڑ 48 لاکھ روپے کے ضمنی بجٹ سے متعلق 42 مطالبات زر پیش کئے جن پر اپوزیشن کی 114 کٹوتی کی تحریکیں جمع کی گئی تھیں ۔ ضمنی بجٹ کے 42 مطالبات زر منظور کرلئے گئے جبکہ 114 کٹوتی کی تحریکیں مسترد کر دی گئیں ۔ اسکے بعد حکومت سندھ کی طرف سے آئندہ مالی سال 2016-17ء کیلئے 8 کھرب روپے سے زائد کے 149 مطالبات زر پیش کیے گئے تھے جن پر اپوزیشن کی طرف سے 722 کٹوتی کی تحریکیں ڈالی گئی تھیں ۔ صرف تین مطالبات زر پر اپوزیشن والوں نے کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں ، جو مسترد ہو گئیں اور یہ تینوں مطالبات زر منظور کر لیے گئے ۔ اپوزیشن ارکان نو کرپشن نو اور دیگر نعرے لگاتے رہے ۔ اپوزیشن کے شور شرابے میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اپنا آخری خطاب نہیں کیا ، جو بجٹ کی منظوری کے بعد ایک روایت ہے ۔ انہوں نے صرف یہ اعلان کیا کہ سندھ اسمبلی سیکرٹریٹ ، محکمہ قانون اور محکمہ خزانہ کے ملازمین کو تین تین ماہ کی اضافی تنخواہیں دی جائیں گی ۔ اسکے بعد سپیکر آغا سراج درانی نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔