حکومت، فوج اور طالبان ایک پیج پر آ چکے ہیں: منور حسن

حکومت، فوج اور طالبان ایک پیج پر آ چکے ہیں: منور حسن

کراچی(ایجنسیاں) جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ ملک میں امن و استحکام اور مذاکرات کی کامیابی کا انحصار امریکی مداخلت سے پاک اور خود مختارانہ خارجہ پالیسی پر ہے۔ ملک میں دہشتگردی، بدامنی اور انارکی پھیلا کر پاکستان کو اپنے ایٹمی پروگرام سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ مذاکرات نے ہمیشہ اسلحہ کی سیاست کو شکست دی۔ ملٹری آپریشن کو دعوت دینا ملک کو تباہ کرنے اور اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ کراچی آپریشن کاسمیٹک آپریشن اور آنکھوں میں  دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ بھارت پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ بھا رت سے دوستی کرنے سے قبل اپنے دوست کو دشمنی ترک کرنے کا مشورہ دیا جائے، سعودی عرب کے شاہ کو ذاتی طور پر ایک خط لکھا ہے۔ اس کی رسید ملنے کے بعد اسے پریس کے لئے جاری کر دیا جائے گا، جسقم کے رہنمائو ں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قابل مذمت ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی اور اے این پی جب حکومت میں تھیں تو انھوں نے کوئی فوجی آپریشن کیوں نہیں کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، عبدالوہاب، مظفر احمد ہاشمی، زاہد عسکری، کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران، سیکرٹری عامر لطیف اور دیگر بھی موجود تھے۔ سید منور حسن نے کہاکہ مذاکرات کے لئے بنائی گئی دونوں کمیٹیوں کی ورکنگ سے دوریاں کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ ملٹری آپریشن سے فوج اور عوام کے درمیان فاصلے اور نفرتیں بڑھتی ہیں، بلوچستان میں آج پانچواں فوجی آپریشن جاری ہے لیکن محرومی کی طویل رات کو مزید طویل کیا گیا ہے۔ سید منورحسن نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دو مرتبہ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جا چکی ہے کہ خارجہ پالیسی کو ازسرنو تشکیل دیا جائے۔ ڈیڑھ ارب ڈالر کی آمد سوالیہ نشان ہے اور یہ بات واضح ہے کہ مانگے کی معیشت سے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ اسحاق ڈار معاشی میدان کے ماہر نہیں ہیں۔ ایم کیو ایم اقتدار سے کبھی دور نہیں رہ سکتی۔ کشمیر کے بارے میں ہمارا موقف صرف جنرل مشرف کے علاوہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادی ملنا چاہئے۔ امریکہ نے تو آج تک پاکستان کی حمایت نہیں کی بلکہ ہمیشہ بھارت ہی کو شہہ دی ہے۔ جماعت اسلامی نے گو امریکہ گو تحریک سے عوام کو جمع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا نے یہ پروپیگنڈہ کیا ہے اسلامی تحریکوں کے اندر جمہوری اور سیاسی سوچ نہیں ہے لیکن جن اسلامی تحریکوں نے سیاسی طریقے سے خود کو منوایا تو ان پر پہلے انتہا پسندی، بنیاد پرستی اور پھر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن کی کامیابی کے بارے میں تو کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ڈی جی رینجرز کا کہنا ہے کہ شہر میں ایک نہیں کئی لیاری گینگ موجود ہیں اور انھیں لوگوں کو پکڑنے کا تو اختیار ہے لیکن ان کو چھوڑنے کا اختیار کسی اور کے پاس ہے۔ ایم کیوایم کے سندھ حکومت میں شامل ہونے سے شہر میں جاری آپریشن رک جائیگا۔ سیاسی جماعتیں ملزمان کی سرپرستی بند کریں۔ حکومت فوج اور طالبان ایک پیج پر آچکے ہیں۔ بھارت پاکستان کو ریگستان بنانا چاہتا ہے۔ بھارت کشمیریوں سے کئے گئے وعدے بھول چکا ہے۔ بھارت دہشتگردی کے معاملے میں خودکفیل ہے۔ دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان خیبر پی کے اور بلوچستان کو ہوا ہے۔ میاں نوازشریف کو بھارت سے دوستی کا مینڈیٹ نہیں ملا تھا، بھارت پاکستان پر آبی جارحیت مسلط کرکے ریگستان بنانا چاہتا ہے۔ سید منورحسن نے کہا کہ اے پی سی کے بعد جب نواز شریف نے پارلیمنٹ میں خطاب کیا تو بہت ساروں کو امید تھی کہ وہ ملٹری آپریشن کرنے کا اعلان کریں گے لیکن انہوںنے ایک بار پھر مذاکرات کی بات کی۔