تھر میں بچوں کی اموات قدرتی تھیں، سندھ حکومت کی نااہلی نہیں: قائم شاہ

تھر میں بچوں کی اموات قدرتی تھیں، سندھ حکومت کی نااہلی نہیں: قائم شاہ

کراچی (این این آئی) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ تھر کی صورتحال کے حوالے سے حکومت سندھ اور اسکے کسی افسر کی کوئی کوتاہی، غفلت یا نااہلی نہیں ہے۔ خشک سالی اور قحط کے اثرات سے اموات ہوتیں تو 10 سال سے اوپر کے لوگ بھی مرتے۔ 10 سال سے کم عمر بچوں کی اموات قدرتی ہیں۔ 2013ء میں 193 بچے ہلاک ہوئے لیکن کسی نے تنقید نہیں کی کیونکہ اس وقت نگران حکومت تھی اور اس نے لوگوں کو خوراک اور دیگر امدادی اشیاء بھی نہیں دی تھی۔ ہم نے تھر کے لوگوں کی خدمت کی لیکن ہمیں بلا وجہ مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سندھ اسمبلی میں تھر کی صورتحال کے حوالے سے پیش کردہ تحریک پر بحث کو سمیٹتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گندم کی نقل و حمل کے حوالے سے کچھ تاخیر ہوئی ہے جس پر میں نے کمشنر میرپور خاص، ڈپٹی کمشنر مٹھی اور دیگر افسروں کو معطل کرکے سینئر پولیس افسر ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی بھی مقرر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2008ء سے 2013ء تک تھر میں چار قحط آئے جن میں بچوں سمیت نوجوان بھی ہلاک ہوئے لیکن کسی نے تنقید نہیں کی، اس مرتبہ معاملے کو زیادہ اچھالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تھرپار کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔ ہم وہاں 11 سو کلومیٹر سڑک تعمیر کر رہے ہیں جس کا مقابلہ لاہور اسلام موٹر وے سے کیا جاسکتا ہے، ہم نے وہاں پانی فراہم کیا ہے، ہم تھر کو اپنے ہی دور میں پاکستان کا انتہائی بہترین علاقہ بنا دیں گے۔ آئندہ دو سال میں انشاء اللہ ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے کول پاور پلانٹس کام شروع کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ہم خشک سالی سے باخبر تھے اور ہم نے پہلے سے تمام انتظامات مکمل کرلئے تھے ۔ اسکے ہمارے پاس دستاویزی ثبوت بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی ٹرانسپورٹیشن کا مسئلہ تھا۔ انہوں نے کہا اس مرتبہ 10 سال سے زیادہ عمر کے کسی خاتون یا مرد کے ہلاک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ بھوک سے اموات نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز بھی موجود ہیں اور دوائیں بھی دستیاب ہیں۔ لوگوں کو ہرممکن طبی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ لائیو سٹاک کی ویکسی نیشن میں بھی کوئی کوتاہی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انسانی زندگی کی کوئی قیمت نہیں لیکن ہم نے بچوں کے ورثاء کو فی کس 2 لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ دریں اثناء ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر فیصل علی سبزواری نے کہا کہ ہم تھر کے ایشو پر سیاست نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی کریں گے۔ ہم نے وزیر اعلیٰ سندھ کی زبانی سنا ہے کہ تھر کے معاملے میں کوتاہی ہوئی ہے۔ ہم تو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا کوتاہی ہوئی ہے اور کس کے خلاف ایکشن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مٹھی اور دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے، وہاں صورت حال زیادہ خراب ہے۔ گندم کی تقسیم کا مسئلہ کیوں پیدا ہوا اور اس حوالے سے گورننس کا سوال کیوں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے ان افسروں اور ڈاکٹروں کا احتساب ہونا چاہئے جن کی وہاں ذمہ داریاں تھیں۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی بلکہ بیوروکریسی نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان اللہ خان مروت نے کہا کہ اگر تھر میں کہی بھی کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو ایوان کو بتایا جائے کہ کس نے کوتاہی کی اور اس کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا۔ تحریک انصاف کے سید حفیظ الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ تھر میں کوئی سازش نہیں ہورہی بلکہ حکومت کی نااہلی ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن وقار حسین شاہ نے کہا کہ تھر اور دیگر صحرائی علاقوں میں مسلسل قحط کی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے حکومت کو مستقل اقدامات کرنا چاہئے۔ ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن پونجو مل بھیل نے کہا کہ ہردو تین سال بعد خشک سالی اور قحط کی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ انگریزوں کے زمانے سے ان علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جاتا ہے۔ لوگوں کو سبسڈیز اور کم نرخوں پر اشیاء فراہم کی جاتی ہے۔ اس مرتبہ سستی گندم 5 ماہ تاخیر سے دی گئی۔ یہ ایک کوتاہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹر کھٹو مل جیون نے کہا کہ صورت حال کا پتہ چلتے ہی حکومت سندھ نے فوری اقدامات کئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سے جو امداد موصول ہوئی وہ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر غلام ارباب رحیم نے صرف اپنے قبیلے میں تقسیم کی۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے پارلیمانی لیڈر نند کمار نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ تھر کی صورت حال میں اس کا کوئی قصور نہیں پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قصور کس کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کا بنیادی مسئلہ پانی کا ہے۔ اگر وہاں ایک نہر بنا دی جائے تو تھر کا 90 فیصد مسئلہ حل ہوجائے گا۔ تھری لوگوں کو بھکاری نہ بنایا جائے